ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 330 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 330

330 میں بطور دعا اسے پڑھنا شروع کیا تو بسا اوقات انکی گمشدہ چیزیں حیرت انگیز طور پر ملتی تھیں اور ان تجارب کا بہت گہرا نقش ان کے دل و دماغ پر جم گیا اور ہمیشہ کے لئے انکی دعا کی طرف توجہ ہو گئی لیکن یہ ایک ایسی دعا ہے جس میں کوئی چیز ملے یا نہ ملے دعا اپنی ظاہری صورت میں مقبول ہو یا نہ ہو یہ دعا وہ فائدہ پہنچا جاتی ہے جو نقصان کو پورا کرنے والا فائدہ ہے بلکہ اس سے بڑھکر۔جو کھویا گیا وہ اللہ ہی کا تھا اس میں توجہ یہ دلائی گئی ہے کہ جو کچھ ہم نے کھویا ہے در حقیقت یہ ہمارا نہیں تھا۔اللہ ہی کا تھا۔ہر چیز جو کائنات میں پیدا ہوئی ہے وہ خدا ہی نے پیدا فرمائی ہے۔اصل ملکیت اس کی ہے۔یہاں تک کہ ہم بھی تو اسی کے ہیں۔وانا الیہ رجِعُونَ اور ہم نے بالآخر اسی کی طرف لوٹ کر جاتا ہے۔پس تھوڑی سی چیز کے گم جانے کا کیا غم کرنا ؟ اس عارضی نقصان پہ رونے دھونے کا کیا فائدہ؟ ہم بھی تو ہمیشہ یہاں نہیں رہیں گے۔یہ دوسرا مضمون شروع ہو جاتا ہے۔اور یہ غم بھی عارضی ہے کیونکہ بالآخر ہر چیز خدا ہی کی طرف لوٹائی جائے گی اور ہم اسی دار فانی سے عالم بقا کی طرف واپس لوٹ آئیں گے۔یہ دعا بہت ہی گہری ہے اور دعا کا رنگ اس میں اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ خدا مالک ہے اور چونکہ وہ مالک ہے اس لئے ہر چیز بالآخر اس کی طرف لوٹے گی۔تو ایک قسم کا خاموش دعا کا رنگ یہ بنتا ہے کہ اے خدا تو نے ہمیں عارضی ملکیت دی تھی۔تو جو مستقل مالک ہے۔سب چیزیں تیری طرف لوٹتی ہیں۔تو ہماری۔عارضی ملکیت بھی ہماری طرف لوٹا دے۔یہ ایک خاموش دعا کا رنگ ہے جو اس مضمون میں داخل ہے۔چنانچہ اگر آپ اس کو سمجھ کر اور غور سے اور عاجزی سے یہ دعا کریں تو اللہ تعالٰی کے فضل کے ساتھ بسا اوقات اس دعا کے نتیجہ میں حیرت انگیز طور پر نہ صرف نقصان پورے ہوتے ہیں بلکہ ان سے بہت بڑھ کر عطا کیا جاتا ہے۔وہ جماعت کے مخلصین جنہوں نے مختلف ابتلاؤں میں بسا اوقات اپنا سب کچھ کھو دیا۔جو کچھ تھا ان کے ہاتھ سے جاتا رہا۔گھر لوٹ لئے گئے۔دکانیں جلا دی گئیں اور جو کچھ سرمایہ تھا وہ لوگ جنہوں نے قرضے دینے تھے لے بھاگے۔تجارتوں میں اکثر ایسے قرضے ہوتے ہیں