ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 302 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 302

302 نہیں دیا کرتے۔وہ ہمیشہ تسبیح و تحمید میں وقت گزارا کرتا تھا، اس میں ہمارے لئے یہ نصیحت ہے کہ ہم عین وقت کے اوپر جو دعا کریں کہ اے خدا ہم سے غلطی ہو گئی ہمیں ظلم سے نجات بخش ہمیں ظلمات سے نکال دے اور اس سے پہلے خدا کی تسبیح و تحمید نہ کریں تو ہماری دعا میں قبولیت کی وہ طاقت نہیں ہوگی۔اس لئے ہمیں ہمیشہ خدا تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کی حالت میں رہنا چاہئیے۔اس وقت خدا کی تسبیح کرنی چاہئیے جبکہ خدا سے کوئی مطالبہ نہیں ہو رہا۔کوئی بھیک مانگنے کے لئے اس کے در پر نہیں گئے بلکہ اس کی محبت میں اس کی یاد میں اس کے پیار میں ، ہم اس کی مدح کے گیت گا رہے ہوں اس کی تسبیح بلند کر رہنے ہوں۔ایسی حالت میں ہمیں جب بھی مشکل پیش آئے گی تب خدا تعالیٰ اس پرانی تسبیح کو یاد کرتے ہوئے اگر چہ گناہ بڑا بھی ہو گیا ہو تب بھی مغفرت کا سلوک فرمائے گا۔پس وہ لوگ جو بعض دفعہ مجھے یہ لکھتے ہیں کہ ہم مصیبت میں گھر گئے ہم نے تو بڑی التجائیں کیں، بڑا شور مچایا بہت روئے پیٹے ہماری دعا قبول نہیں ہوئی، ان کے لئے اس میں نصیحت ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ پہلی زندگی میں وہ خدا سے غافل رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے نعمتیں عطا کیں لیکن انہیں خدا کو یاد رکھنے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی اسی وقت یاد آیا جب کہ ضرورت پیش آئی تو جب ضرورت پیش آئے اس وقت کی یاد کی کوئی حقیقت نہیں ہوا کرتی کوئی قیمت نہیں ہوا کرتی۔پس ضمنا " یاد کروا دوائے وہ تین دن والی جو بحث ہے اس کو اس طرح نہیں کرنا چاہئیے کہ آپ اصرار کریں کہ ضرور تین دن ہی مچھلی کے پیٹ میں رہے تھے۔تین دن کی خطرناک حالت ہم کہہ سکتے ہیں، معلوم ہوتا ہے بائبل میں جو واقعہ ہے وہ لکھنے والوں پر پوری طرح واضح نہیں تھا خد اتعالیٰ نے ممکن ہے کسی نیک بندے پروحی کی ہو یا ایک باہر کے نبی کا قصہ وہاں پہنچا ہو اور اس میں غلطی رہ گئی ہو۔تین دن کی انتہائی نازک حالت کا ذکر ہو گا جس کو یہ سمجھ لیا گیا کہ گویا تین دن مچھلی کے پیٹ میں رہے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے دل کا حملہ ہوتا ہے تو تین دن تک بعض دفعہ ایک شخص Intensive care میں رکھا جاتا ہے یعنی ایسی حالت میں جہاں زندگی اور موت