ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 27
27 لگتا تھا کہ با قاعدہ چاندی کی بنی ہوئی مچھلیاں ہیں جو ساتھ ساتھ کوندے مار رہی ہیں اور سطح کے قریب اگر کشتی کی پیروی کرتی تھیں DAVID ATTENBOROUGH نے قلم میں نہ صرف فضا میں چمکنے والے حشرات الارض کی تصویریں کھینچی ہیں، صرف جگنوؤں کی نہیں مختلف قسم کی، بلکہ زمین پر چلنے والوں کی بھی کھینچی ہیں اور سمندر میں ڈوبے ہوؤں کی بھی کھینچی ہیں اور وہ بتاتا ہے کہ نہ جو اس حیرت انگیز جلوہ آرائی سے خالی ہے نہ خشکی پر چلنے والے جانور اس سے خالی ہیں نہ سمندر کے اندر بسنے والے اس سے خالی ہیں۔چنانچہ سمندر میں جب رہ جا کر دکھاتا ہے تو سطح پر یعنی سطح کے قریب رہنے والی مچھلیاں اور مختلف قسم کے جانور رات کے وقت ایک دوسرے سے روشنیوں کے ذریعے باتیں کر رہے ہوتے ہیں اور بہت ہی خوبصورت نظارے پیدا ہوتے ہیں لیکن سب سے زیادہ حیرت انگیز چیز جو DAVID ATTENROROUGH نے بھی محسوس کی اور ہر دیکھنے والا محسوس کرتا ہے وہ یہ ہے کہ سمندر کی تہہ میں اتنی گہرائی پر جہاں سمندر کے پانی کا بوجھ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ فضا کے اندر جو بوجھ ہے جس میں ہم زندگی بسر کرتے ہیں اس سے 50 گنا سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے یعنی اتنا بوجھ ہے کہ اگر ایک انسان بغیر کسی مشینی سہارے کے بغیر خاص قسم کے خود پہنے ہوئے نیچے چلا جائے تو اس بوجھ سے پیچک کر اس طرح چپٹ کے وہ پھیل جائے اور بکھر جائے جس طرح اس کے اوپر کئی شن وزن ڈال دیا جائے ، شاید اس سے بھی زیادہ وزن ہو کیونکہ نیچے جاکر 50 گنا فضائی وزن سے زیادہ وزن ہو جاتا ہے۔وہاں DAVID ATTENBOROUGH یہ تمہید قائم کرتا ہے کہ میں جب خاص قسم کی کشتی میں بیٹھ کر کیمرے وغیرہ لے کر نیچے گیا تو اول تو انسان یہ بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ اتنے حیرت انگیز دباؤ کے نیچے کوئی زندگی پل سکتی ہے لیکن مزید حیرت اس بات پر ہے کہ وہاں روشنی کا کوئی اشارہ بھی نہیں پہنچتا۔کوئی نور کی ایک اچٹتی ہوئی کرن بھی وہاں داخل نہیں ہو سکتی کیونکہ اوپر کی سطح کا پانی اس کو جذب کر لیتا ہے اور مکمل تاریکی کا اگر کہیں کوئی تصور ہے تو وہ نیچے ہے۔کلیتہ بالکل ایک تاریک دنیا کہتا ہے اور وہ فلم دکھاتا ہے کہ جب ہم وہاں نیچے پہنچے تو وہاں ہمیں ایسی حیرت انگیز مچھلیاں دکھائی دیں، ہر قسم کے مختلف جانور چلتے پھرتے دکھائی دیئے جن کا آپس