ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 294
294 حکومت تھی اور یہ وہی زمانہ ہے جس میں اسیر ہنر نے سب سے پہلے حملہ کرکے بنی اسرائیل کی حکومت کو پارہ پارہ کیا تھا۔پس تاریخی نکتہ نگاہ سے ناممکن دکھائی دیتا ہے کہ اس زمانے میں فلسطین کے کسی باشندے کو خدا تعالیٰ یہ حکم دے کہ پانچ سو میل تو سیدھا رستہ ہے، ویسے زمینی سفر کا جو رستہ ہے وہ بہت لمبا بنتا ہے) اتنا لمبا رستہ طے کر کے تم نینوا جاؤ اور وہاں جاکر انکو دھمکاؤ، پس یہ قرین قیاس بات دکھائی نہیں دیتی۔دوسرے یہ کہ نینوا بستی کے متعلق اس زمانے میں ایسی کوئی شہادت نہیں ہے کہ وہاں کسی نبی نے بھی کسی قسم کی منادی کی ہو اور اس کے نتیجے میں ساری بستی ایمان لے آئی ہو۔پس بائبل کا قصہ کئی لحاظ سے قابل قبول نہیں ہے دوسرے بائیل نے جو واقعات کی ترتیب بیان کی ہے وہ بھی عجیب و غریب ہے۔بائبل کے مطابق حضرت یونس نے خدا کا انکار کرتے ہوئے نینوا کی طرف جانے کی بجائے یافا سے کشتی پکڑی اور کسی اور جگہ کا رخ اختیار کیا۔سمندر میں طوفان آگیا اور جب کشتی ڈوبنے کے قریب ہوئی تو لوگوں نے کہا کہ ہم میں کوئی گنہگار ایسا ہے جس کی وجہ سے خدا تعالی کا عذاب نازل ہونے لگا ہے۔اس وقت حضرت یونس نے اقرار کر لیا اور کہا کہ میں ہی وہ ہوں جس کی وجہ سے تم سب کی شامت آگئی ہے، اس لئے بہتر یہ ہے کہ تم مجھے کشتی سے باہر پھینک دو۔چنانچہ ان کو کشتی سے باہر پھینک دیا گیا، وہاں ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور بائبل کے بیان کے مطابق تین دن اور تین رات مسلسل آپ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔پھر مچھلی نے آپ کو کسی جگہ اگلا وہاں سے پھر آپ واپس نینوا گئے اور اس طرح بالآخر خدا کی بات پوری کی۔نینوا جانے کے بعد بھی آپ نے حقیقت میں سچی توبہ نہیں کی بلکہ نینوا والوں کو پیغام دیتے ہوئے یہ بھی کہتے تھے کہ مجھے پتہ ہے کہ ان لوگوں نے توبہ کر لیتی ہے اور خدا نے معاف کر دیتا ہے اور خوامخواہ میں بے عزت ہو جاؤں گا۔چنانچہ جب نینوا کو اللہ تعالیٰ نے تباہ نہیں فرمایا اور نینوا کے باشندوں نے توبہ کر لی تو حضرت یونس خدا تعالٰی سے روٹھ کر وہاں سے پھر جنگل کی طرف چلے گئے۔وہاں بائیبل کے بیان کے مطابق خدا تعالیٰ نے آپ کے لئے ایک بیلدار درخت اگایا جس کی