ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 293 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 293

293 کہ ان کے پس منظر سے متعلق بھی چند الفاظ بیان کئے جائیں۔حضرت یونس کے متعلق بائیل نے جو واقعات بیان کئے ہیں وہ قرآن کریم سے مختلف ہیں اور ان کی ترتیب بھی بدلی ہوئی ہے اور بائبل کے بیان کے مطابق حضرت یونس کا جو واقعہ ہے ایک ایسی جگہ پیش آیا یعنی یا نا میں یا فا فلسطین کے مغربی ساحل پر ایک بندرگاہ ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ یافا سے آپ نے وہ جہاز پکڑا تھا یا سمندری کشتی پکڑی تھی جس میں سے بالآخر آپکو پھینکا گیا۔یہ یا نا اس مقام سے جو نینوا کا مقام ہے جسے حضرت یونس کی بستی بھی قرار دیا جاتا ہے اگر سیدھا کوے کی اڑان اڑا جائے تو پانچ سو (۵۰۰) سے زائد میل دور ہے۔نینوا جس کے متعلق عام طور پر مفسرین کا خیال ہے کہ نینوا وہ بستی ہے جہاں حضرت یونس کو بھجوایا گیا تھا وہ موصل میں واقع ہے جو عراق کے شمال میں آج کل کردوں کا علاقہ ہے، اس زمانہ میں جس زمانے کی یہ بات ہے وہاں اسیر ینز کی حکومت تھی حضرت یونس کا زمانہ آٹھ سو سال قبل مسیح بیان کیا جاتا ہے۔لیکن مختصرا" اب میں بائبل کے متعلق بتاتا ہوں کہ بائبل کیا کہتی ہے پھر میں قرآن کریم کی طرف آؤں گا کہ قرآن کریم کیا بیان فرماتا ہے۔بائبل کے نزدیک حضرت یونس جن کو جو نا یا ہونا کہا جاتا ہے اور انکے نام کی ایک کتاب بھی بائبل میں ہے۔ان کو خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ تو نینوا بستی کو جا کر ڈرا کہ اگر وہ تو بہ نہیں کرے گی تو ہلاک کر دی جائے گی حضرت یونس نینوا جانے کی بجائے یا فا چلے گئے اور یافا جا کر آپ نے وہ کشتی پکڑ لی جس میں سے بالآخر آپ کو قرعہ اندازی کے بعد باہر پھینک دیا گیا اور مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔اول تو یہ بات قرین قیاس نہیں یعنی ایک مومن جس نے قرآن کریم کا مطالعہ کیا ہو اور انبیاء کی عظمت کا تعارف قرآن کریم سے حاصل ہوا ہو وہ ایک لمحہ کے لئے بھی یہ سوچ نہیں سکتا کہ خدا ایک نبی کو مشرقی علاقے میں کسی شہر میں جانے کا حکم دے اور وہ اس طرف پیٹھ کر کے مغرب کی طرف روانہ ہو جائے اور خدا کے حکم کا انکار کرکے کسی اور جگہ کا رخت سفر باندھے کسی اور جگہ کی تیاری کرلے۔یہ تو شان نبوت کے بالکل خلاف بات ہے۔ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی نبی ایسی کھلی کھلی خدا تعالیٰ کی نافرمانی کرے۔دوسرے وہ زمانہ وہ ہے جبکہ اسیریا کی عراق کے شمالی علاقہ میں بہت ہی زبر دست