ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 290
290 تفصیل سے ذکر نہیں کیا مگر میں نے پھر ان روایات کو مختلف تاریخی حوالوں سے دیکھا ہے۔ہریش چندر کے متعلق مختلف روایات ملتی ہیں لیکن خلاصہ مختصرا یہی ہے کہ وہاں دیوتاؤں کو اس پر رشک آیا اور انہوں نے ہندو میتھالوجی کے مطابق سب سے بڑے خدا سے یہ کہا کہ ہمیں موقع دیں ہم اس کو آزمائش میں ڈالتے ہیں۔چنانچہ ایک دیو تا انسان کے روپ میں گیا، اس نے ہریش چندر سے کہا : سنا ہے کہ تو بڑا سخی داتا ہے۔کیا میری استدعا کو قبول کرے گا؟ اس نے کہا ہاں جو مانگے گا میں دوں گا اور ہریش چندر کے متعلق بھی یہ مشہور تھا کہ وہ حد سے زیادہ وعدے کا پختہ ہے اور جو ایک دفعہ قول و قرار دے بیٹھے اس سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تو اس طرح پختہ قول لینے کے بعد اس نے کہا کہ اپنا سب کچھ مجھے دے دو۔تمام جائداد دولتیں ، اموال گھر جو کچھ تیرا ہے سب کچھ دے دے اور ہریش چندر نے دے دیا اس کے بعد اس نے کہا کہ تو نے سب کچھ تو نہ دیا۔ابھی تیرے بچے بیوی تو خود ہے اور تیرا جسم ہے اس کا کیا ہے، ہو گا چنانچہ یہ طے پایا کہ ان سب کو وہ بیچ دیں اور ایک شودر نے، جو ہندو Cast system کے مطابق سب سے ذلیل قسم کی ذات ہے، آپ کو خرید لیا اور پھر وہ مشقتوں کا دور شروع ہوا اور بہت ہی سخت تکلیفیں ہوئیں۔مصائب در پیش ہوئے تو ملتی جلتی کہانی ہے۔حضرت مصلح موعود کا یہ رجحان ہے کہ چونکہ زمانہ بھی کم و بیش ایک ہی ہے اس لئے بعید نہیں کہ حضرت ایوب ایک ہندی نبی ہوں اور (جیسا کہ پہلے بھی میں نے بیان کیا ہے کہ بعض محققین کے نزدیک وہ اسرائیلی نہیں تھے) اس ہندی نبی کی روایات وہاں پہنچی ہوں اور انکو بائبل کا حصہ بنا دیا گیا ہو۔اس پس منظر میں اب میں قرآن کریم کی وہ دعا آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو اللہ تعالی نے حضرت ایوب کو سکھائی اور وہ یہ تھی وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّةَ أَنِّي مَسَّنِيَ تم المر و انت ارحم الرحمین یہاں ارحم الراحمین پر دعا کو ختم کیا گیا ہے کہ تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے حضرت ایوب کی حالت کے متعلق