ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 289 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 289

289 ماروں گا۔اس شرک میں مبتلا ہونے کے نتیجہ میں یعنی بطور سزا اس کو میں سو کوڑے ماروں گا۔اس پر بیوی چھوڑ کر چلی گئی اور اکیلے رہے تب بھی حضرت ایوب ثابت قدم رہے۔تب اللہ تعالٰی نے آپ کو بتایا کہ یہ تیری آزمائش کا دور تھا، تو اس پر پورا اترا اور جو کچھ تیرے نقصانات تھے وہ سب پورے ہو جائیں گے اور اب تو ہے۔پہلی حالتوں کی طرف بلکہ ان سے بھی بہتر حالتوں کی طرف لوٹایا جائیگا۔پھر بیوی بھی ملتی ہے پھر اولاد بھی آتی ہے۔پھر اور جو شہر کے لوگ نکالنے والے تھے ان کے اندر بھی ندامت پیدا ہوتی ہے گویا کہ انجام اس واقعہ کا یہ ہے کہ حضرت ایوب دوبارہ اپنی صحت کی طرف لوٹ آتے ہیں پرانی شان اور آن بان کی طرف بھی لوٹ آتے ہیں سب چھوٹے ہوئے، روٹھے ہوئے ساتھی واپس آجاتے ہیں ، یہ ہے خلاصہ اور مفسرین نے بھی کم و بیش یہی مضمون بیان کیا ہے لیکن بعض تبدیلیوں کے ساتھ اور بائیل نے یہ لکھا ہے کہ شیطان فرشتوں کے گروہ میں شامل ہو کر خدا کے حضور میں پیش ہوا اور اس طرح خدا سے اس نے گویا فرشتہ بن کر باتیں کیں اور یہ سارا قصہ اس کے نتیجہ میں پیدا ہوا۔مفسرین نے اس کو قبول نہیں کیا اور اس کو نیا رنگ یہ دے دیا ہے کہ اس زمانے میں یعنی کہ حضرت ایوب کے زمانے میں شیطان بعض دفعہ فرشتوں اور نبیوں کے در میان باتیں سن لیا کرتا تھا، مچان لگا کر بیٹھا رہتا تھا اور وہ باتیں سن لیا کرتا تو ایک دفعہ فرشتوں کی اور حضرت ایوب کی باتیں ہو رہی تھیں اور بڑی انکی تعریف ہو رہی تھی اور انہوں نے خدا سے بھی عرض کیا کہ دیکھو کیسا نعمتوں والا بندہ ہے اور پھر اس کے باوجود عبادت کرتا ہے تو اس پر شیطان کو پتہ چل گیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے چنانچہ اس نے یہ شرارت شروع کی۔کیا حضرت ایوب ہندی نبی تھے حضرت مصلح موعودؓ نے تفسیر کبیر میں ذکر کیا ہے کہ اس سے ملتا جلتا ایک واقعہ ہریش چندر ایک ہندو بزرگ کا بھی بیان کیا جاتا ہے جن کے متعلق یہ آتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسی طرح انعام یافتہ تھے جسی طرح حضرت ایوب کے ذکر میں ملتا ہے مگر وہاں شیطان کی بجائے بعض دیوتاؤں کو حسد پیدا ہوا۔حضرت مصلح موعودؓ نے تو