ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 285 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 285

285 سکھائی وہاں صدق کا لفظ ساتھ سمجھا دیا کہ یہ دعا کرنا کہ اے خدا جب بھی میری حالت تبدیل ہو سچائی کے ساتھ تبدیل ہو۔اس آیت سے پہلے جو مضمون چل رہا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بلند مراتب کا مضمون ہے اور پہلی آیت ہمیں یہ یہاں بتاتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نصیحت فرمائی کہ وَمِنَ الْمَلِ فَتَمَجَدْ بِهِ نَافِلَةٌ لكَ وعَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا كه اے میرے بندے ! راتوں کو اٹھ کر تہجد کے نوافل ادا کیا کرو اور خدا کی راہ میں جدوجہد کیا کر۔عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقاماً محمودا اس کے نتیجہ میں ہر گز بعید نہیں بلکہ قریب ہے کہ تجھے مقام محمود عطا کیا جائے۔مقاما محمود کو تک رکھ کر اس مقام کے بہت ہی عظیم الشان ہونے کی طرف اشارہ فرما دیا گیا۔پس اس دعا کے معا بعد یہ دعا ر کھی یعنی اس خوشخبری کے بعد کہ خدا تعالٰی تجھے بہت ہی عظیم مقام اور مرتبہ عطا فرمانے والا ہے، یہ دعا سکھائی رت ادخلي مُدْخَل صدق کہ اے خدا جس مقام پر تو مجھے فائز فرمانا چاہتا ہے یا جس پر فائز فرمانے کا تو نے فیصلہ فرمالیا ہے : ادْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ مجھے صدق کے ساتھ اس میں داخل فرمانا وآخر جرني محرج صدقي اور اس مقام پر ٹھہرائے نہ رکھنا بلکہ اس سے آگے بلند تر مقامات کی طرف بھی ہاتھ پکڑ کر لے جانا اور صدق کے ساتھ لے جانا یہاں صدق کے لفظ نے تنزل کی نفی فرما دی۔چونکہ بعض دفعہ ایک انسان ایک اعلیٰ مرتبہ حاصل کرنے کے باوجود اس مرتبہ پر اپنی شامت اعمال کے نتیجہ میں قائم نہیں رہ سکتا جیسا کہ قرآن کریم نے بلعم باعور کی مثال دی ہے کہ اللہ تعالٰی نے اسے ایسی صلاحیتیں عطا کی تھیں کہ اگر وہ چاہتا یعنی اگر وہ نیک اعمال پر استقامت اختیار کرتا اور خدا کی طرف رفعتیں حاصل کرنا چاہتا تو یقیناً اللہ تعالی ان صلاحیتوں کے نتیجہ میں جو اسے عطا کی گئی تھیں اسے بلند مقام عطا فرما سکتا تھا ولكنة الحلة الی الارض لیکن وہ بد بخت ایسا نکلا کہ وہ دوبارہ زمین کی طرف جھک گیا۔پس اس کا بلند مرتبہ سے نکلنا مخرج صدقی نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ وہ سچائی کی بجائے جھوٹ کے قدم کے ساتھ باہر نکلا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ