ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 262 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 262

262 وجہ سے رحم کا سلوک کیا اور صغیراً" کے لفظ نے بتا دیا کہ بڑے ہو کر رحم کا معاملہ اتنا نہیں رہا کرتا جتنا بچپن میں ہوتا ہے۔بچپن کی کمزوری ہے جو رحم کا تقاضا کرتی ہے۔بچے کو آپ ایک بات سکھاتے ہیں۔چلانا سکھائیں تو با ربا روہ کرتا ہے۔بولنا سکھائیں تو بار بار غلطیاں کرتا ہے۔مثلا تا ہے۔سبق پڑھائیں تو اس کو پڑھا ہوا سبق یا ربا ر بھولتا چلا جاتا ہے۔لفظ آپ رٹا بھی دیں تو پھر اگلی دفعہ جب سنتے ہیں تو اس لفظ میں پھر وہی غلطیاں کرنے لگ جاتا ہے۔بعض دفعہ بچے کو پڑھانا اعصاب شمکن ہوتا ہے اور حقیقت میں جب تک رحم کا معاملہ نہ کیا جائے اس وقت تک بچے کی صحیح تعلیم نہیں ہو سکتی۔چنانچہ بعض والدین جو جہالت سے حوصلہ چھوڑ بیٹھتے ہیں وہ بچے سے بجائے رحم کے تختی کا معاملہ شروع کر دیتے ہیں اور سختی کے ساتھ بچے کی تربیت ہو نہیں سکتی۔اس میں بغاوت پیدا ہو جاتی ہے۔اس میں سخت رد عمل پیدا ہوتے ہیں اور بجائے اس کے کہ اس کی تربیت ہو اس کے اندر بچپن سے نقائص بیٹھ جاتے ہیں۔پس اس آیت کریمہ نے اس حکمت کو بھی ہمارے سامنے روشن کر دیا کہ وہ والدین جو اچھی تربیت کرنے والے ہوں وہ بچپن میں رحم کے ساتھ تربیت کیا کرتے ہیں اور وہ لوگ جن کو یہ دعا سکھائی گئی ہے وہ کیونکہ دراصل حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور آپ کے ساتھی ہیں، آپ کے غلام ہیں اس لئے ان کے والدین سے بہترین توقعات بھی پیش فرمائی گئیں اور یہ بیان کیا گیا کہ جس طرح ہمارے والدین بچپن میں ہماری کمزوریوں کے پیش نظر ہم سے سختی کرنے کی بجائے رحمت کا معاملہ کیا کرتے تھے اور تربیت میں بار بار بخشش کا سلوک فرماتے تھے اسی طرح اے خدا! اب میرے والدین کمزور ہو چکے ہیں تو ان کی غفلتوں اور کمزوریوں سے در گذر فرما اور ان کے ساتھ بخشش اور رحمت کا سلوک فرما۔اس ضمن میں ایک یہ بات بھی یا درکھنے کے لائق ہے کہ کما کے لفظ نے ہمیں ہماری بہت سی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلا دی جو صرف والدین کی طرف سے نہیں بلکہ اپنی اولاد اور آئندہ نسلوں کی طرف سے ہمیں پیش آتی ہیں اور ہمیں انہیں