ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 261
261 سکھائی گئی۔رت از حَمْهُمَا كَمَا رَبَّنِي صَغِيرًا اے اللہ ان سے اس طرح رحم کا سلوک فرما جس طرح یہ بچپن میں مجھ سے رحم کا سلوک فرماتے تھے۔صرف اپنے حقوق ادا نہیں کرتے تھے۔محض مجھے زندہ رکھنے کے لئے اور روز مرہ کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے محنت نہیں اٹھاتے تھے بلکہ اس سے بہت بڑھ کر مجھ سے شفقت اور رحمت کا سلوک فرمایا کرتے تھے۔میری معمولی سی تکلیف پر یہ بے چین ہو جایا کرتے تھے۔میری ادنی سی بیماری پر ان کی راتوں کی نیندیں حرام ہو جایا کرتی تھیں اور انہوں نے جو مجھ سے سلوک فرمایا وہ رحمت کا سلوک ہے۔پس مجھے جو احسان کا حکم ہے کہ میں بھی احسان کا سلوک کروں تو اے خدا ! میں اس احسان کا بدلہ نہیں چکا سکتا اس لئے میں دعا کے ذریعے تجھ سے مدد چاہتا ہوں اور جب تک تو اس بارہ میں میری مدد نہ فرمائے، حقیقت میں میرے والدین کے مجھ پر اتنے احسانات ہیں کہ میں جو بھی کوشش کروں اس کے باوجود ان احسانات کو چکا نہیں سکتا پس تو میری مدد فرما اور رَبِّ ارْحَمْهُمَا اے خدا تو ان کے اوپر رحم فرما اور میرے سلوک میں جو کمیاں رہ جائیں گی وہ تو اپنے رحم سے پوری فرما دے مارتيني صَغِيرًا جس طرح بچپن میں یہ میری تربیت کرتے رہے تو ان کے ساتھ وہ سلوک فرمان بچہ کی تربیت میں سختی کی بجائے رحم کی ضرورت اس دعا نے ایک اور حیرت انگیز مضمون کو ہمارے سامنے کھول دیا کہ والدین بھی جہاں تک خدا کا تعلق ہے اس کی تربیت کے محتاج ہیں اور تمااف کہنے کے ساتھ ان کی بشری کمزوریوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے تو وہاں بھی خدا تعالیٰ کی ربوبیت کی بہت ضرورت ہے۔انسان تو مرتے دم تک خدا کی ربوبیت کا محتاج رہتا ہے اس لئے یہ دعا بہت ہی کامل دعا ہے اور اس کے معنی یہ نہیں گے کہ اے خدا ! اگر چہ بظاہر ان کے اعضاء مضمحل ہو چکے ہیں۔یہ کمزوری کی طرف لوٹ رہے ہیں۔طاقت کے بعد ضعف ہو چکا ہے۔لیکن ضعف کے وقت زیادہ رحم کے ساتھ تربیت کی ضرورت پیش آتی ہے۔جب میں بچہ تھا تو میرے والدین نے مجھے سے میرے ضعف کی