ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 253
253 ہیے کیونکہ عبادت پر قائم ہونے کے باوجود عابدوں کے لئے بھی امتحانات آیا کرتے ہیں اور ٹھو کر کے مواقع پیدا ہوتے رہتے ہیں۔بعض ایسے عبادت کرنے والوں کا ذکر احادیث میں بھی ملتا ہے کہ عمر بھر عبادت کی مگر کسی موقعہ پر کسی وجہ سے ٹھو کر کھا کر ہمیشہ کرلئے خدا سے دور جا پڑے۔تکبر سے بچنے اور نمازوں پر قائم رہنے کی دعا پس عبادت کرنے والے کو تکبر سے باز رکھنے کے لئے اور خدا کی خوش خبریاں پانے کے باوجود انکسار کے ساتھ خدا کے حضور یہ عرض کرتے رہنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جو کچھ ہم نے عبادت میں حاصل کیا ہے جب تک زندگی کا سانس ہے اسے خطرہ ہے۔یہ تیری طرف سے ایک دولت اور نعمت ہے تو سہی لیکن نعمتیں بھی تو ضائع ہو جایا کرتی ہیں۔اس لئے ابراہیم علیہ السلام خود پہلے اپنے لئے دعا کرتے ہیں۔ربِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلوة اے خدا مجھے بھی نماز قائم کرنے والا بنا۔اب بتائیں آج کل کوئی شخص اگر بظاہر نماز پر قائم ہو چکا ہو تو اس کا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نماز پر قائم ہونے سے بھلا کیا مقابلہ؟ کوئی نسبت ہی نہیں ہے لیکن بعض نمازی آجکل کی اس دنیا میں بڑا تکبر کر جاتے ہیں۔ہمیں اور کیا چاہئیے ہم نماز پڑھتے ہیں اور خوب سختی سے نماز پر قائم ہیں حالانکہ سختی سے قائم ہونا اور چیز ہے اور دل کی نرمی کے ساتھ نماز پر قائم ہونا اور چیز ہے لیکن ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا نمونہ ہمیں بتاتا ہے کہ نماز پر قائم ہونا محفوظ مقام نہیں ہے جب تک انسان آخری سانس نہ لے اور خدا اپنی طرف نہ بلائے۔پس اس دعا کو اس مضمون کو سمجھنے کے بعد ادا کیا کریں اور خدا کے حضور اپنی عبادتوں کو فخر کے ساتھ پیش نہ کریں بلکہ عاجزی اور انکسار کے ساتھ ڈرتے ڈرتے پیش کریں اور دنیا کی طرف نگاہ ڈالیں کہ اس دنیا میں بھی یہی ہوتا چلا آیا ہے اور آج بھی یہی ہوتا ہے کہ بعض دفعہ بڑے بڑے امیر بڑے بڑے دولت مند اچانک ایسے مصائب کا اور حوادث کا شکار ہو جاتے ہیں کہ کچھ باقی نہیں رہتا۔ساری دولتیں مٹ جاتی ہیں جو کچھ کمائی تھی وہ سب ختم ہو گئی تو اگر دنیا کی دوستیں محفوظ نہیں ہیں تو روحانی دولت بھی ان معنوں میں محفوظ نہیں ہے۔اگر کوئی بلا پڑے گی تو بلا ان نعمتوں کو تباہ بھی کر سکتی