ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 244
244 مضمون بھی ہمیں سمجھا رہی ہے۔سورہ یوسف کے آغاز میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو ہم بیان کرنے لگے ہیں یہ احسن القصص ہے۔اتنا حسین واقعہ ہے کہ ایسا دلچسپ واقعہ اس سے زیادہ پیارا اور دلکش قصہ تم نے کبھی نہیں سنا ہو گا، نہ سن سکتے ہو کیونکہ یہ احسن القصص ہے۔اب قرآن کریم میں انبیاء کے بہت سے نقص بیان ہوئے ہیں اور ایک سے ایک بڑھ کر بڑے دلچسپ واقعات بیان ہوئے ہیں لیکن صرف سورہ یوسف کو احسن القصص کہا گیا ہے۔میں اس پر غور کرتا رہا تو میرے دل نے یہ گواہی دی یہ دعا جو حضرت یوسف نے کی ہے کہ یہ حسن کی انتہا ہے۔اتنی حسین دعا ہے اور حضرت یوسف کے حسن کا ایسا عجیب منظر پیش کرتی ہے کہ انسانی دنیا میں آپ کو ایسی مثالیں دکھائی نہیں دیں گی۔آپ کو زلیخا نے جب ابتلا میں ڈالا اور دعوت دی اور اپنے ساتھ اس شہر کی یا اس قصبے کی دوسری خوبصورت عورتوں کو بھی شامل کر لیا کہ اگر یہ اکیلا میرے سے پوری طرح قابو نہیں آسکتا تو ہو سکتا ہے ہم سب مل کر اس پر اپنا جادو چلائیں تو یہ اس جادو کے اثر کے تابع ہماری بات مان جائے۔یہ سکیم تھی جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔اس پر حضرت یوسف یہ دعا کرتے ہیں : قَالَ رَت الوجنُ رَبِّ احب الي مِمَّا يَدْعُونَنِي اليه (سورة يوسف : (۳۴) یہ مجھے لذتوں کی طرف اور عیش و عشرت کی طرف بلا رہے ہیں۔اے خدا میں زیادہ پسند کرتا ہوں کہ میں قید ہو جاؤں اور قید خانے میں زندگی بسر کروں۔مجھے یہ آزادی پسند نہیں ہے جو لذتوں کی آزادی ہے مگر تیری رضا کی آزادی نہیں ہے۔کتنی عظیم الشان دعا ہے۔وہ یہ بھی دعا کر سکتا تھا کہ اے خدا! مجھے بچالے لیکن دوسری طرف قید خانے کو دیکھا۔اس مضمون کو ذہن میں رکھا اور یہ دعا کی کہ اے خدا! مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے۔اب دیکھیں دعا اور قبولیت میں کیسے لطیف رشتے ہیں میں پہلے یہ سمجھ نہیں سکتا تھا کہ حضرت یوسف بیچارے کو اللہ تعالٰی نے اتنی لمبی قید میں کیوں مبتلا کر دیا۔اپنی منہ مانگی دعا ہے جو ان کے سامنے آئی۔پس جہاں ایک طرف یہ دعاؤں میں احتیاط بتانے والا مضمون ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ اپنے لئے مشکل دعا مانگا ہی نہ