ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 243
243 متعلق کسی کو علم نہیں، باپ کو علم نہیں ، خدا تعالٰی نے اس پر پردہ ڈالا ہوا تھا اور نوح نے جب شک کا اظہار کیا ایسے شک کا اظہار جو اتنا خفی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو شک کے طور پر پیش کرنا بھی پسند نہ فرمایا لیکن آپس میں جو مکالمہ ہوا ہے اس کی طرز بتا رہی ہے که اندر کیا بات تھی۔ادب بہر حال قائم تھا اور اس وقت شک کے دوران بھی اتنا گہرا ادب تھا کہ اس ادب کے نتیجے میں اس وقت خدا نے آپ کو جاہل قرار نہیں دیا بلکہ یہ بتایا کہ آغاز اسی طرح ہوا کرتا ہے۔ایک انسان اگر اپنے سے بالا ایسے لوگوں کے فیصلے جن کا احترام لازم ہے باریک نظر سے نہ دیکھے اور شک کی گنجائش ہو تو اس کا پہلا تقاضا تو یہی ہے کہ ادب اور احترام کی وجہ سے زبان نہ کھولے اور استغفار سے کام لے اور دعا سے کام لے لیکن اگر اس سے ایسا ہو بھی جائے اور بار بار ایسا ہو تو پھر خطرہ ہے کہ انسان مزید ٹھو کر کھا جائے گا۔پس ایسے مختلف فیصلوں میں جہاں ایک مومن ایمان بھی رکھتا ہے اور ادب بھی رکھتا ہے وہاں بھی بعض دبی ہوئی آزمائشیں بھی بہت ہی خطرات کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں اور اس سلسلے میں نہایت اعلیٰ تعلیم یہ دی گئی ہے کہ اعتراض نہیں کرنا چاہئے استغفار سے کام لینا چاہئیے اپنے ایمان کی حفاظت کرنی چاہئے اور اللہ پر توکل کرنا چاہئیے اور خدا سے یہ دعا کرنی چاہیے کہ والا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي احن من الخمرین کہ اے خدا! اگر تو نے بخشش کا سلوک نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو اس صورت حال میں میں یقینا گھانا پانے والوں میں شامل ہو جاؤں گا اور اگر سوال اٹھتے ہی ہیں تو پھر یہ دعا بہت اچھی ہے۔یعنی اس کا پہلا حصہ کہ قال رت الان اعوذ بك أن أسْتَلْكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلم اے خدا! میں تیری حکمتوں کا احاطہ نہیں کر سکتا۔میں نہیں جانتا کہ اس دنیا میں بہت سی باتیں کیوں ہو رہی ہیں۔تیری تقدیر کیا کیا مخفی مصلحتیں لئے ہوئے ہے۔تیرے فیصلے کو ہم دیکھ لیتے ہیں۔تیری زیر پر نظر نہیں جاتی۔اس لئے ہم تجھ سے ان شکوک کے بارہ میں پناہ مانگتے ہیں جو ایسے موقعوں پر دلوں میں پیدا ہو جایا کرتے ہیں۔حضرت یوسف علیہ السلام کی دعاء حسن کی انتہا ایک دعا حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا ہے جو اسی سورۃ کا ایک اور