ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 233 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 233

233 کہ اگر جبر کے ذریعے تکلیفیں دیگر کسی کو اس کا دین بدلنے پر مجبور کیا جائے تو اس کو فتنہ کہا جاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةً اس وقت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ جب دنیا سے فتنہ اٹھ جائے۔ويكون الدین اللہ اور دین بالآخر اللہ ہی کے لئے ہو جائے۔کسی جبر اور زور کا محتاج نہ رہے۔دین آزاد ہو جائے تو ربنا لا تَجْعَلْنَا فِتْنَةٌ لِلْقَوْمِ الظَّلِمِينَ میں ایک مطلب یہ ہے کہ اے خدا! ہمیں ان کا تختہ مشق نہ بنا۔وہ جبر اور ظلم اور تعدی کے ذریعے دنیا میں اپنا دین پھیلانا چاہتے ہیں اور دین حق کو مٹانا چاہتے ہیں۔پس ان معنوں میں ہمیں فتنہ نہ بنا کہ ہم ان کے تختہ مشق بن جائیں اور وہ ہم پر آزمائیں کرتے پھریں۔فتنہ کا دوسرا مطلب ہے۔ٹھوکر کا موجب نہ بیٹا۔کیونکہ فتنہ کا ایک مطلب ٹھوکر ہے۔پس اے خدا! جب ہم نے دین کو قبول کر لیا ہے تو ایسی کمزوریاں ہم میں نہ ہوں جن کو دیکھ کروہ کہیں کہ دیکھو جی! یہ مومنین ہیں۔یہ یہ غلطیاں ان سے سرزد ہوتی ہیں۔لوگوں کو پاک کرنے والے ہیں۔آپ اتنے گناہوں میں ملوث ہیں۔پس ہر قسم کی غلطیوں سے پاک کرنے کی دعا بھی اسی کے اندر داخل ہو گئی۔پھر فتنہ کے دونوں معنوں کا ایک ملاپ بھی اس کے اندر شامل ہے۔مطلب یہ ہے کہ اے خدا! اگر تو نے ہمیں ان کے ظلم کا نشانہ بننے دیا تو ظالم لوگ یہ سمجھیں گے کہ ان کا خدا نہیں ہے۔ان کا کوئی بھی نہیں ہے۔ٹھوکر کا مضمون اور ظلم و ستم کا مضمون یہاں اکٹھا ہو گیا۔پس جماعت احمدیہ کے لئے یہ دعا بہت ہی موزوں اور ہر محل دعا ہے اور خاص طور پر یہ جو ابتلاؤں کا دور ہے اس میں اس دعا کو اس تمام وسعت کے ساتھ پیش نظر رکھتے ہوئے خدا کے حضور مانگنا چاہئیے اور اس مضمون میں اگر آپ اپنے مظلوم احمدی بھائیوں کے حالات کو پیش نظر رکھ لیں یا ان تکالیف کو جن میں سے آپ گزرے ہیں، مختلف جگہ پر مختلف نوعیت کے جو روز مرہ ظلم ہو رہے ہیں ان کو ذہن میں و ہر الیا کریں تو اس دعا میں بہت درد پیدا ہو جائے گا اور حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے مانے والوں کے متعلق جب آپ یہ سوچیں کہ کتنے عظیم لوگ تھے۔کتنے