ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 232
232 دعائیں کی تھیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دعائیں بہت ہی قیمتی خزانہ ہیں اور جن لوگوں کے لئے ان دعاؤں کو محفوظ کیا گیا اگر وہ ان سے فائدہ نہ اٹھائیں تو کتنی بد نصیبی ہوگی۔پس دنیا کے خزانوں کے پیچھے تو لوگ بہت محنت کرتے ہیں مگر وہ خزانے جو قرآن میں مدفون ہیں ان پر سے سرسری نظر سے گزر جاتے ہیں حالانکہ اگر ان میں ڈوب کر دیکھیں تو جو چیزیں بظا ہر دلچسپی کا موجب نہ بھی دکھائی دیتی ہوں غور کرنے کے بعد ان میں سے نئی نئی لذت کے مضامین نکلتے ہیں اور انسان کے دل پر قبضہ کر لیتے ہیں۔اب اس سلسلے میں حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے والوں کی یہ دعا میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو قرآن کریم نے سورہ یونس آیت ۸۶-۸۷ میں بیان فرمائی ہے۔فَقَالُوا عَلَى اللهِ تَوَلنَا رَبَّنَا لا تَجْعَلْنَا فِتْنَةَ لِلْقَوْمِ التلوين وتجنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے جب اپنی قوم سے کہا کہ تم خدا پر ایمان لے آؤ تو ان میں سے جو ایمان لے آئے ان کے متعلق اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔فَقَالُوا عَلَى الله توكلنا اس موسیٰ پر ایمان لانا تو بہت مشکل ہے اور تھا بھی وہ فرعون کا زمانہ اور ایسا جابر فرعون کہ جس کا ذکر بحیثیت ایک جابر فرعون کے تاریخ میں محفوظ ہے اور خود وہ اپنے جبر کا احساس رکھتا تھا۔وہ یہ سمجھتا تھا کہ میرے سوا عبادت کے لائق کوئی چیز ہی نہیں ہے۔اس وقت حضرت موسیٰ کی آواز پر یہ کہہ دیتا کہ ہم ایمان لے آئے ہیں بہت بڑا دعوی ہوتا اور یہ ایک ایسا نہ دعوی ہے جیسے کوئی یہ کہے کہ ہم دنیا سے کلیتہ " مرمٹنے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔پس اس لئے انہوں نے آغاز ہی میں یہ کہا۔فَقَالُوا على الله توكلنا مشکل کام ہے لیکن جس خدا پر توکل کر کے ہم آگے بڑھ رہے ہیں وہ بچانے والا بھی ہے۔وہ ہر ظالم کے اوپر غالب آسکتا ہے۔ہر جابر سے بڑھ کر طاقت ور ہے۔ربنا لا تجعلتا فتنة للقوم الظلمین اے خدا ہمیں ظالموں کی قوم کے لئے فتنہ نہ بنانا۔فتنہ کے دوہرے معنی یہاں فتنہ کا مضمون بہت دلچسپ رنگ میں دُہرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔قرآن کریم میں فتنہ دین کے زبر دستی بدلنے کو بھی کہتے ہیں۔قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے