ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 231
بیت الفضل لندن ۲۶ / اپریل ۱۹۹۱ء بسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ اللہ کی راہ کے مسافروں کا سب سے بڑا سہارا۔دعا تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا : گزشتہ دو جمعوں سے یہ مضمون چل رہا ہے کہ خدا کی راہوں پر قدم مارنے والے اللہ تعالیٰ کی راہ کے مسافر رستے کی صعوبتوں اور مشکلات کو کیسے برداشت کرتے ہیں اور کس طرح ان تکالیف پر غالب آتے ہیں جو خدا کی راہ میں چلنے والوں کو پہنچتی ہیں۔قرآن کریم اس کا جواب ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ یہ معجزہ دعا کے ذریعہ ظہور ہوتا ہے ورنہ انسان کے اپنے بس میں نہیں کہ خدا کی راہ پر چلتے ہوئے اس کی تکالیف کو صبر اور رضا کے ساتھ کلیتہ برداشت کر سکے اور پھر بجائے مشکلات سے مغلوب ہونے کے غالب بن کر ابھرے۔پس یہ دو اکٹھی ہاتیں ہیں جو دعاؤں کا پھل ہیں۔صرف انبیاء ہی کی نہیں بلکہ دیگر انعام یافتہ لوگوں کی دعاؤں میں سے ان دعاؤں کو قرآن کریم میں محفوظ فرما دیا جو اللہ تعالیٰ کو پسند آئیں اور جن کو امت محمدیہ کے لئے بطور نمونہ محفوظ رکھا گیا۔نہیں تھا۔ایسی ایسی قدیم دعائیں ہیں اور ایسے ایسے وقت میں ہوئیں جبکہ کوئی ان کا گواہ موجود ایک ابراہیم تھے اور ایک ان کا بیٹا اور ایسی بھی دعائیں تھیں جبکہ بیٹا بھی نہیں تھا۔اکیلے ابراہیم جنگل بیابان میں دعائیں کر رہے ہیں۔وہ دعائیں بظا ہر ہمیشہ کے لئے فضاؤں میں کھوئی گئیں اور ان کا کوئی وجود باقی نہیں رہا۔کتنی مدت کے بعد ؟ ہزاروں سال بعد حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دل پر وہ دعائیں الہام کی گئیں اور آپ کو بتایا گیا کہ میرے بندے ابراہیم نے اس طرح لق ودق صحرا میں یہ