ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 228
228 واپسی کا کوئی رستہ نہیں رہا۔اب تو خیر لیکر ہی واپس لوٹیں گے۔انا خذنا اليك ہم تیرے پاس آگئے۔اب ہم سے یہ سلوک نہ کرنا کہ دشمنوں میں ہماری فضیحت ہو اور جنگ ہنسائی بنے۔پس انبیاء کی دعاؤں پر غور کریں اور دیکھیں یہ انعام یافتہ لوگ تھے۔کیسے موقعہ اور محل کے مطابق کتنی حکمت کے ساتھ اور درد کے ساتھ اور خلوص کے ساتھ انہوں نے ایسی دعائیں مانگیں جو معلوم ہوتا ہے کہ مانگتے وقت ہی خدا کے حضور مقبول لکھی گئیں تھیں اور ان کے رد کرنے کا سوال ہی نہیں تھا کیونکہ دعائیں اپنی سچائی اور خلوص کے ساتھ خود اپنی مقبولیت کی گواہ بن کر دلوں سے اٹھ رہی تھیں۔سب دعاؤں کی تان اللہ کی حمد پر ٹوٹتی ہے چونکہ وقت زیادہ ہو رہا ہے۔اس لئے اس ایک دعا کے بعد جو اب میں آپ کو بتاؤں گا پھر یہ سلسلہ انشاء اللہ اگلے جمعہ میں جاری رہے گا۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا کہ آخرت میں بھی دعاؤں کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد کی جو زندگی ہے اس میں اور بھی مزید ترقیات عطا ہوتی ہیں اور روحانی دنیا میں کوئی ترقی دعا کی مدد کے بغیر عطا نہیں ہو سکتی۔اس مضمون کو خوب ذہن نشین کرلیں۔پس اگر مرنے کے بعد بھی ترقیات کا سلسلہ جاری ہے تو دعاؤں کا سلسلہ لازم ہے۔چنانچہ فرمایا۔دعونهم فيها جنت میں ان جنتوں کی کیا دعا ہوگی۔سُبحنك الأهم اے اللہ! تو ہر برائی سے پاک ہے۔دَتَحيَّتُهُمْ فِيهَا سلم اور وہ ایک دوسرے کو سلام بھیجیں گے۔سلام دعا ہے۔ایک دوسرے کے لئے خدا سے سلامتی مانگیں گے۔وَأَخِرُدَعُوهُمْ آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (سورة يونس : 1)۔اور آخری د عوامی ان کا یہ ہو گا آخری دعا ان کی یہ ہوگی کہ سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔یہاں رب کے اوپر دعا کی جو تان ٹوٹی ہے اور قرآن کریم کی یہ پہلی آیت۔الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العلمین پر جو دعا کی تان ٹوٹی ہے تو اس میں اس مضمون کی طرف اشارہ ہو گیا جس سے ہم نے سورۂ فاتحہ کا آغاز کیا تھا۔وہ مضمون یہ ہے کہ خدا