ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 222 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 222

222 رکھتا بلکہ مرنے کے بعد بھی جاری رہے گا۔چنانچہ سورہ اعراف میں یہ دلچسپ دعا موجود ہے جو مرنے کے بعد اعراف پر موجود جنتی خدا سے مانگیں گے اور اس وقت وہ یہ دعا کریں گے۔ربَّنَا لا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ (سورة الاعراف : ۴۸) کہ اے ہمارے رب! ہمیں ظالموں میں نہ شمار کرتا۔اس کا کیا مطلب ہے؟ وہ تو ظالموں کی دنیا سے نکل کر اپنے خدا کے حضور حاضر بھی ہو گئے اور اس مقام پر فائز کئے گئے جسے قرآن کریم اعراف کا مقام بتاتا ہے یعنی خدا کے نتخب چیدہ بندے۔جس طرح پہاڑ کی بلند چوٹی پر کوئی کھڑا ہو اس طرح ان کو رفعتیں عطا کی جائیں گی اور وہ دور سے دکھائی دیں گے۔نمایاں طور پر معلوم ہو گا کہ یہ خدا کے ایا رے بندے ہیں۔اس مقام پر فائز ہونے کے باوجود یہ حال ہو گا کہ عرض کریں گے : ربنا لا تجعلنا مع القَوْمِ الظَّلِمِينَ اے ہمارے رب! ہمیں ظالموں کی قوم میں داخل نہ کرنا۔دراصل ابھی اعراف پر فائز لوگوں کے ساتھ حساب کتاب ہونا باقی ہے۔یہ اس دور کی بات ہو رہی ہے جبکہ حشر نشر ہو چکا ہے لیکن ابھی آخری فیصلے کا وقت آنے والا ہے مگر نیکیوں کی علامتیں بھی ظاہر ہو گئی ہیں۔بدوں اور جہنم والوں کی علامتیں بھی ظاہر ہو رہی ہیں۔وہ دو گروہوں میں بانٹے جارہے ہیں تو انکسار کا تقاضا یہ ہے اور عجز کا تقاضا یہ ہے کہ اس حالت میں بھی جبکہ سامنے جنت دکھائی دے رہی ہو خدا سے یہ عرض کریں کہ جہاں تک ہماری ذات کا تعلق ہے اگر تو ہمارے ظالم ہونے کا فیصلہ کرلے تو تیرا فیصلہ برحق ہو گا۔ہم اپنے گناہوں اور کمزوریوں سے واقف ہیں۔اعراف پر فائز ہونے کی وجہ سے ہمیں کوئی دھوکہ نہیں لگا۔ہم یہ نہیں سمجھ رہے کہ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جان پر کوئی ظلم نہیں کیا۔اس لئے جب ہم کہتے ہیں کہ ربنا لا تجعلنا مع القوم الظالمين تو مراد یہ ہے کہ تیرے حضور ہم ظالموں میں شمار نہ ہوں۔ہماری تو یہ التجا ہے کہ مظلموں کے باوجود تو ہمیں نیک لوگوں میں لکھتا اور اگر ہم بخشے جائیں تو ہم اس دھوکے میں مبتلا نہیں ہوں گے کہ اپنی نیکیوں کی وجہ سے بخشے گئے بلکہ یہ سمجھیں گے کہ ظالم ہوتے ہوئے بھی تو نے ہمیں ظالموں میں شمار نہیں فرمایا۔