ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 221 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 221

221 سمجھ آئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی ایک نئے دور کا آدم قرار دیا گیا۔ہے اور یہ وہ دور خسروی ہے جب کہ اسلام کو دنیا میں از سر نو زندہ بھی کیا جائے گا اور غالب بھی کیا جائے گا۔تبھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ایک شعر میں اپنے آپ کو آدم قرار دیتے ہیں۔پس اس دعا کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت سے بڑا گہرا تعلق ہے کیونکہ ایک نئے آدم کے دور کے ساتھ اس دعا کا تعلق ہے اس نئے دور میں اس دعا کی مدد سے داخل ہوں اور یہ دعا پڑھتے ہوئے داخل ہوں کہ ربنا ظلمنا انفسنا اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔وان لم تغفر لنا اگر تو نے مغفرت نہ فرمائی۔وَتَرْحَمْنَا اور ہم پر رحم نہ فرمایا لَتَكُونَنَّ مِنَ الْخُسِرِينَ (الاعراف: ۲۴) تو یقیناً ہم گھاٹا پانے والوں میں سے ہوں گے۔اس دعا میں لفظ شیرین کا بھی دور آخر سے گہرا تعلق ہے کیونکہ قرآن کریم میں سورہ عصر میں اللہ تعالی فرماتا ہے : والعضر ان الانسان لفي حشر (سورۃ العصر : ۲-۳) اس زمانے سے خبردار رہو اس زمانے کا خیال کرو جبکہ انسان بحیثیت مجموعی گھاٹا پانے والوں میں سے ہوگا۔انسان کھانا کھائے کا یعنی تمام عالم کا یہ حال ہو گا۔تمام دنیا کھانا کھانے والی دنیا ہو جائے گی۔پس ان دعاؤں کا مضمون ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہوتا ہے اور بڑے گہرے آپس کے تعلقات ہیں جو سرسری نظر سے دکھائی نہیں دیتے لیکن جب آپ ذرا ڈوب کر ان کا مطالعہ کریں تو آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ روحانی نظام بھی بہت گہرا مربوط انتظام ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ اس کا تعلق چل رہا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے جب اپنی جماعت کو اس دعا کی طرف متوجہ فرمایا تو یونہی نہیں کہ دل میں یونہی خیال آگیا کہ چلو یہ بھی دعا کر لیا کرو بلکہ اپنے آدم ہونے کے اعتبار سے اور قرآن کریم کی اس خبر کے اعتبار سے کہ یہ زمانہ گھانا کھانے والوں کا زمانہ ہے، یہ دعا جماعت احمدیہ کے لئے نہایت ہی اہم ہے اور ہماری بقاء کے لئے بہت ہی ضروری ہے۔جنتیوں کی دعا ایک اور دعا سے پتہ چلتا ہے کہ دعاؤں کا سلسلہ صرف اس زندگی سے تعلق نہیں