ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 214 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 214

214 تھے وہ پورے نہ ہوئے۔اب اگر وعدے پورے نہیں ہوئے تو بظا ہر یہ خیال جاتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے وعدے پورے نہیں کئے۔حالانکہ خدا تو وعدے پورے کرتا ہے پس اس دعا کا آخری حصہ یہ ہے۔إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ( آل عمران : ۱۹۵) جہاں تک وعدوں کا تعلق ہے تو یقیناً وعدہ خلافی کرنے والوں میں سے نہیں۔تو لازما اپنے وعدے پورے کرتا ہے۔پس جب ہم یہ التجا کرتے ہیں کہ یہ وعدے ہمارے حق میں پورے فرما تو مطلب ہے کہ ہمیں ان وعدوں کا مستحق بنا دے کیونکہ اگر ہم مستحق نہ رہے تو پھر یہ وعدے پورے نہیں ہوں گے لیکن قصور تیرا نہیں ہو گا، قصور ہمارا ہو گا تو اس طرح قرآن کریم ان لوگوں کی راہوں کو ہم پر آسان بنا دیتا ہے جن کی راہیں ان کی دعاؤں کے نتیجے میں ان پر آسان بنائی گئیں اور ہمیں نصیحت فرماتا ہے کہ اس طرح یہ دعائیں کرتے کرتے اس سفر میں آگے بڑھو۔کمزور مردوں عورتوں اور بچوں کی دعا پھر اللہ تعالٰی کمزور عورتوں، مردوں اور بچوں کی دعا کو بھی قرآن میں محفوظ فرماتا ہے۔ایسی عجیب کتاب ہے کہ زندگی کا کوئی پہلو خالی نہیں چھوڑتی۔مختلف حالتوں کی دعائیں اس میں محفوظ ہیں۔اگر آپ غور سے ان کا مطالعہ کریں تو زندگی کے ہر امکان پر یہ دعائیں حاوی ہیں اور زندگی کے ہر احتمال پر بھی یہ دعائیں حاوی ہیں۔چنانچہ فرمایا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ پر اور ان کمزور مردوں عورتوں اور بچوں کی راہ میں جنگ نہیں کرتے ہو جو یہ کہتے ہیں۔(یہ آیت کے پہلے حصے کا ترجمہ ہے) کہ ان لوگوں کی خاطر تم کیوں جہاد نہیں کر رہے ہو جو مظلوم ہیں اور جو مشکلات میں پھنے ہوئے ہیں اور یہ دعائیں کر رہے ہیں کہ ربنا آخرِ جَنَا مِنْ هذه الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اهْلُهَا کہ اے اللہ ہمیں اس بستی سے نجات بخش جس بستی کے رہنے والے ظالم ہو چکے ہیں وَاجْعَلْ لَنَا مِن لَّدُنكَ وَلا ہمارے لئے اپنی جناب سے کوئی دوست بنا کے بھیج دے۔وَاجْعَلْ لَّنَا مِن لَّدُنْكَ نَصِيرًا (سورة النساء : ٤٧) اور اپنی ہی جناب سے ہمارے لئے کوئی مددگار بھیج دے۔