ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 210
210 کر کے محض لوہے کا ڈھیر بنا دینے پر لگی رہتی ہیں اور آنا فانا ان کاروں کے لیے مگر جاتے ہیں اور وہ محض لوہے کے ٹکڑے باقی رہ جاتے ہیں۔مقصد کیا ہے؟ مقصد یہ ہے کہ ہر وہ چیز باقی رہے جو مفید ہے۔جو ان مقاصد کے مطابق ہے جن مقاصد کے لئے اسے پیدا کیا گیا اور ہر وہ چیز رد کر دی جائے اور اسے کالعدم کر دیا جائے جو مقاصد کو ادا کرنے سے عاری ہو گئی ہو کیونکہ اس کے رہنے کا اب کوئی جواز نہیں رہا۔ان کے لئے آگ بنائی گئی ہے۔آگ ان لوگوں کو ختم کرنے کے لئے بنائی گئی جو مقصد کو پورا نہیں کر سکے۔اس لئے یہ بڑی پر حکمت دعا ہے۔دیکھئے ان لوگوں کو اولوالالباب کہتا یہاں کیسا سجتا ہے کہ غور و فکر کے بعد لمبی باتوں کی بجائے سیدھی نکتے کی بات کسی آخری مقصد کی بات بیان کر گئے کہ اے خدا! ہم نے بہت غور کر لیا ہے۔اب ہمیں یہ یقین ہو گیا ہے کہ اگر ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہ کیا تو ہم آگ کا ایندھن بنائے جانے کے لائق ہوں گے۔پس ہم تجھ سے یہ عرض کرتے ہیں کہ ہمیں آگ کے عذاب سے بچا ربَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ خَزَيْته اے خدا! جسے تو آگ میں داخل کر دے یا داخل کرے گا تو اسے تو ذلیل و رسوا کر دے گا۔وَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ انصاری (آل عمران : ۱۹۳) اور ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہیں۔یہ بھی کیسی پر حکمت دعا ہے اور دیکھیں ان کے لئے اولوالالباب کہلانا کیسا زیب دیتا ہے۔کیونکہ یہ کہنے کے بعد کہ جسے تو آگ میں داخل کرے ، یہ شبہ پیدا ہو سکتا تھا کہ اللہ گویا نعوذ باللہ لوگوں کو زبر دستی آگ میں داخل کرتا پھرتا ہے۔اس شبہ کا ازالہ اس دعا کے آخری ٹکڑے نے کر دیا کہ وما للظلمین مِن أنصار اے خدا ! جن کو تو آگ میں داخل کرے گاوہ ظالم ہوں گے۔خود اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہوں گے اور جو ظلم کرنے والے ہیں ان کی مدد نہیں کی جاتی۔اس لئے تو ان کی مدد نہیں کرے گا۔وَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ انْصار پھر یہ دعا آئی : ربنا اتنا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي للايمان کہ اے خدا! ہم نے اس منادی کی آواز کو سنا جو یہ پکار رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لے آؤ۔اس کی یہ ندا تھی کہ اے لوگو! تم اپنے رب پر ایمان لے آؤ۔پس ہم نے اس پکار کو سنا اور ایمان لے آئے۔اس ایمان لانے