ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 208 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 208

208 نہیں ہوئے جو تھک ہار کر ذلیل ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔یہ کیسے ہوا؟ اس لئے ہوا کہ وہ ایک دعا کیا کرتے تھے۔ومَا كَانَ قَوْلَهُمْ إلا أن قالوا : اس کے سوا ان کی دعا اور کچھ نہ تھی کہ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا اے ہمارے رب ! ہمارے گناہ بخش دے۔وإشرافنان آمرنا اور اپنے نفس پر ہم جو زیا دتیاں کرتے رہتے ہیں ان سے صرف نظر فرما۔وثبت اقدامنا اور ہمارے اقدام میں استحکام بخش اور ہمیں متزلزل نہ ہونے دے۔وانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الكفرين (آل عمران : ۱۳۸۴۷) اور ہمیں کافروں کی قوم پر نصرت عطا فرما۔ہیں یہ جو دعائیں بتائی گئیں کہ یہ دعائیں کیا کرتے تھے ان دعاؤں کو اس مضمون پر جہاں کر کے دیکھیں جو پہلے گزر گیا کہ ان میں یہ بات بھی پیدا نہیں ہوئی۔یہ بات بھی پیدا نہیں ہوئی۔یہ بات بھی پیدا نہیں ہوئی تو در حقیقت ان سب باتوں کا جواب اس دعا میں ہے۔اس دعا کے جتنے ٹکڑے ہیں ان کا ان باتوں سے تعلق ہے جن باتوں سے وہ بچے رہے اور جن سے اللہ تعالٰی نے ان کو نجات بخشی اور وہ اس دعا ہی کا نتیجہ تھا۔پس اگر آج بھی مومن اس راہ کو طلب کر رہے ہیں تو اس راہ کی صفات کو اختیار کرنا پڑے گا اور دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالٰی سے ثبات قدم کی التجائیں کرنی ہوں گی۔أولوا الألباب کی دعا پھر قرآن کریم میں ایک دعا اولوا الا کباب کی دعا بتائی گئی ہے یعنی عقل والوں کی دعا جن کا دماغ روشن ہوتا ہے۔جن کا نور بصیرت تیز ہوتا ہے۔فرمایا : إنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لا يت لأولى الالباب (آل عمران) دیکھو! آسمان اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے اولنے بدلنے میں یقیناًا اولوالالباب کے لئے صاحب عقل لوگوں کے لئے نشانات ہیں۔صاحب عقل لوگ کیا کرتے ہیں؟ صاحب عقل وہ لوگ ہیں۔الَّذِينَ يَذْكُرُوت الله قيا ما وَقُعُودًا جو اللہ کو کھڑے ہو کر بھی بیٹھ کر بھی یاد کرتے وَعَلَى جُنُوبِهِمْ اور رات کو لیٹے ہوئے یا دن کو لیٹے ہوئے بھی۔ويَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ اور ہمیشہ زمین و آسمان کی پیدائش ہیں۔