ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 207
207 ضروری ہے کہ انسان خود نیک ہو۔پس حواریوں نے دیکھئے کیسی پر حکمت دعا کی ہے۔پہلے حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام سے کہا کہ تو ہمارا گواہ بن جا کیونکہ تو ہی یہ اہمیت رکھتا ہے کہ جو بات کہتا ہے وہی کرتا ہے۔جس نیکی کی تعلیم دیتا ہے اس پر عمل پیرا ہے ہمارا گواہ بن جا کہ ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔اور پھر خدا سے عرض کی کہ اے خدا! ہمیں بھی گواہوں میں لکھ لے۔ہم تیرے حضور اس قابل بنیں کہ لوگوں کو نہ صرف نیکی کی تعلیم دیں بلکہ اس تعلیم پر خود عمل کرنے والے ہوں یہاں تک کہ تیرے نزدیک ہم شاہدین میں لکھے جائیں۔بہت بڑا مرتبہ ہے جو طلب کیا گیا ہے یعنی تیرے حضور انبیاء کے ان ساتھیوں میں لکھے جائیں جن کو قوموں کی نگرانی پر مامور کیا جاتا ہے۔پس نیک اعمال کی اور اخلاص کی دعا اس دعا کے اندر شامل ہو گئی اور بہت ہی جامع و مانع دعا ہے۔پھر بہت سے انبیاء کی دعا قرآن کریم نے یوں بیان فرمائی کہ مختلف انبیاء مختلف مصائب میں مبتلا ہو کر یہ دعا کیا کرتے تھے جن کا ذکر یوں فرمایا: وَحاتِن مِّن نَّبِي قتل ، مَعَهُ يَتُونَ كَثير، فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَ مَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا، وَ اللهُ يُحِبُّ الصَّبِرِينَ وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ الا ان قَالُوا آگے دعا شروع ہوگی۔دحان من نبي کتنے ہی خدا کے نبی DELETON ECCCESS ایسے ہیں۔قتل معه إينونَ كَثِير۔جن کے ساتھ بہت سے خدا والوں نے مل کر جہاد کیا۔فَقادَ مَنوا وہ کمزور نہیں پڑے۔لمَّا أَصَابَهُة في سَبِيلِ الله اس وجہ سے کہ ان کو اس راہ میں یعنی اللہ کی راہ میں صیبتیں پڑیں - وَمَا ضَعُفُوا اور یہ بھی کمزوری کے اظہار کا ایک مزید لفظ ہے۔ضَعُفُوا کمزور پڑ جاتا۔بوڑھے ہو جاتا۔تھک جاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔وما استعانوا اور ایسے حال میں نہیں پہنچے کہ وہ ذلیل اور رسوا ہو چکے ہوں اور ہمت ہار بیٹھے ہوں تو باوجود شدید مشکلات کے علمبی مشکلوں کی راہ پر چلنے کے ان میں کوئی کمزوری نہیں آئی، کوئی بیزاری پیدا نہیں ہوئی کوئی تھکن پیدا نہیں ہوئی اور مشکلات نے ان کے اعصاب کو مضمحل نہیں کر دیا اور دنیا کی نظر میں ان لوگوں میں وہ شمار