ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 199
199 چاہیے کسی کو نا اہل قرار دیکر اس سے اپنا عطاء کردہ ملک واپس لے لے۔وَتُعِزُّ مَنْ تشاء وتذل من تشاء تو جس کو چاہتا ہے عزت بخشتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اسے ذلیل ہونے دیتا ہے لیکن بِيَدِكَ الْخَيرُ تیرے ہاتھ میں خیر ہے۔بھلائی ہے۔تیری طرف سے کسی کو ذلت نہیں پہنچتی۔تو ذلیل ہونے دیتا ہے۔یعنی اگر وہ خود ذلیل ہونا چاہتا ہے تو بعض دفعہ تو فیصلہ فرما لیتا ہے کہ اچھا پھر ہم تجھے ذلیل ہونے دیں گے اور پھر وہ ذلیل اور رسوا ہو جاتا ہے لیکن جہاں تک تیرے ہاتھ کا تعلق ہے یہ ہاتھ خیر کا ہاتھ ہے یہ برائی کا ہاتھ نہیں ہے۔اِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ اور تو ہر اس چیز پر قادر ہے جو تو چاہتا ہے اور چونکہ تو بھلائی چاہتا ہے اس لئے ہم تجھ سے بھلائی ہی کی توقع رکھتے ہیں تُولِجُ الهَل فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔راتیں دنوں میں داخل ہو جاتی ہیں اور دنوں کو تو راتوں میں داخل فرما دیتا ہے۔جب چاہے راتوں کو دنوں میں داخل فرماتا ہے دنوں کو راتوں میں زمانے داخل فرما دیتا ہے وَتُخْرِجُ الحي من امتِ وَتُخْرِجُ الْمَيْتُ مِنَ الْحَيِّ اور اسی طرح تو زندوں کو مردوں میں داخل کر دیتا ہے اور مردوں کو زندوں میں داخل فرما دیتا ہے۔پس ہر آن تیرا فضل ہی ہے جو ہمیں ہمیشہ صحیح رستے پر قائم رکھے اور مردوں سے زندوں میں داخل ہونے والے ہوں نہ کہ زندوں سے مردوں میں داخل ہونے والے ہوں۔اسی طرح ہمارے زمانے راتوں سے روشنیوں میں تبدیل ہونے والے ہوں، روشنیوں سے راتوں میں تبدیل ہونے والے نہ ہوں۔وَتَرْزُقُ مَن تشاء بغير حساب اور تو جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے اسے رزق عطا فرماتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم نے اس دعا کے متعلق فرمایا کہ جو شخص سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرتا ہے، پھر آیت الکرسی کی تلاوت کرتا ہے، پھر آل عمران کی اس آیت کی تلاوت کرتا ہے جس میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے : شهد الله انه لا اله الا هو والمليكة وأولوا العلم قائِمَّا بِالْقِسْطِ، لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (آل عمران : ١٩) شَهِدَ اللہ اللہ تعالٰی اس بات کا گواہ ہے