ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 183
183 میں سے کچھ نہ کچھ میں ضرور پہنچاؤں گا۔یہ نہیں کہ ادھر کسی نے انکار کیا وہیں میں نے نعمت کا ہاتھ کھینچ لیا تو جہاں تک ثمرات دنیا کا تعلق ہے وہ میں انکار کرنے والوں کو بھی دیتا رہوں گا لیکن کچھ عرصے تک ہمیشہ کے لئے نہیں، حد اضطرة إلى عَذَاب النَّارِ، وَبِئْسَ الْمَصِيرُ کچھ عرصے سے مراد دنیا کی زندگی ہے یعنی دنیا کی زندگی میں میں پھلوں سے محروم نہیں کروں گا لیکن جب وہ مرکز میرے حضور پیش ہو گا تو اس لئے میں اس کو عذاب سے میرا قرار نہیں دوں گا کہ اس کو میں نے دنیا میں نعمتیں دی تھیں۔پس خانہ کعبہ کی نعمتوں سے وہ فائدہ اٹھانے والا تو ہو گا لیکن اپنے کفر یا ناشکری یا انکار کی وجہ سے مرنے کے بعد پھر اسے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور یہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے جس کی طرف وہ لوٹ کے جانے والا ہے۔واذ يَرْفَعُ ارْجِمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَ اسْمعِيل۔اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم نے قواعد بیت کو اللہ کے گھر کی بنیادوں کو استوار کرنا شروع کیا و اسمعیل اور اسماعیل اس کے ساتھ ساتھ تھا تو (اس وقت) پہلی دعا ان کی یہ تھی۔ربنا تقبل منا کہ اے خدا! ہم سے اس کو قبول فرما لے۔حضرت ابراہیم کی جو یہ دعا ہے اور حضرت اسماعیل کی یہ دعا ہے، اس دعا میں بہت گرمی سمتیں ہیں۔پہلی بات تو یہ سمجھائی گئی ہے کہ خدا کی خاطر اتنی مشقت اٹھا کر اتنی مصیبتیں برداشت کر کے ایک ویرانے میں ابراہیم اپنی بیوی اور بچے کو لے کر آیا۔پھر لمبی مصیبتوں میں انتظار کیا۔بھوک دیکھی، پیاس دیکھی، ہر قسم کی تکلیفیں اٹھا ئیں۔بار بار آتا رہا یہاں تک کہ وہ بچہ بڑا ہو گیا اور خدا کی خاطر، محض خدا کی خاطر گھر تعمیر کیا جا رہا ہے لیکن انکسار کا یہ عالم ہے کہ ربنا تقبل منا سے دعا شروع کی۔اے اللہ ! قبول فرمالیتا۔گھر تو تیری خاطر بنا رہے ہیں۔خالفتہ نیکی کی خاطر لیکن انسان خود اپنی نیتوں کی کنہوں سے واقف نہیں ہوتا انسان اپنے اندرون حال سے خود واقف نہیں ہوتا ، اس لئے ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہم تیرے حضور پیش کر رہے ہیں اسے اپنی رحمت سے قبول فرما لیتا۔اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ تو نے والا بھی ہے اور جاننے والا بھی ہے۔صرف دعائیں سنتا ہی نہیں ان کے احوال سے