ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 179
179 عبادت کے راز سکھاتی ہے اور عبادت میں لذت پیدا کرتی ہے اور اس مضمون کے آخری حصے میں ہم داخل ہو چکے تھے۔جس میں ہم اس دعا پر غور کر رہے تھے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عليهم ولا الضالین اور میں نے آپ کو بتایا کہ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں جن لوگوں کا ذکر ہے اگر چہ وہ سب انعام یافتہ ہیں لیکن ان کی زندگیاں بڑی مشقتوں اور تلخیوں میں گزریں اور خدا کی راہ میں انہوں نے بڑے بڑے ابتلاء دیکھنے اور ایسے بھی تھے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام ، جنہوں نے خود ابتلاؤں کے تقاضے کیسے کہ اے خدا ہمیں ہماری قربان گاہیں دیکھا۔ہمیں ان رستوں پر چلا جن رستوں پر چل کر ہم تیری راہ میں دکھ اٹھا ئیں اور پھر ثابت قدم ٹھہریں اور تجھ سے نئے اعزاز پائیں لیکن ان تمام باتوں کا ذکر کرنے کے بعد جن میں سے ایک حصہ میں پچھلے جمعہ میں بیان کر چکا ہوں اور ایک وہ حصہ تھا جسے بیان نہیں کر سکا لیکن ان کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے ان سب تاریخی واقعات پر نظر ڈالتے ہوئے جب غور کرتے ہوئے ایک مومن آگے بڑھتا ہے تو دل میں خوف پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ میں کیا دعا کر رہا ہوں۔ایسی مشکل اور ایسی مصیبت کی دعا جس پر ہو سکتا ہے میں ثابت قدم نہ ٹھہر سکوں۔مشکلات کو اپنے منہ سے دعوت دینا اور امتحان کو بلانا بڑے حو صلے کا کام ہے لیکن اس کے باوجود ہر نماز کی ہر رکعت میں یہ دعا کرنے پر مجبور ہے کہ مجھے انعام پانے والوں کا رستہ دکھا اور اس کی تفصیل قرآن کریم نے جو بیان کی ہے وہ بہت ہی دل ہلا دینے والی تفصیل ہے ایسی تفصیل ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑی مشکل کا جان جوکھوں کا رستہ ہے۔سوال یہ ہے کہ پہلے لوگوں نے یہ رستہ کیسے طے کیا تھا۔وہ رستہ انہوں نے ایسے طے کیا کہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خود سکھایا کہ کیا کرو؟ کس طرح یہ مشکلیں تم پر آسان ہو جائیں گی؟ اور یہ آگ تمہارے لئے گلزار بنادی جائے گی۔فرمایا : واسْتَعِينُوا بِالصَّبرِ والصَّلوة اے میرے بندو ! صبر کے ساتھ اور عبادتوں کے ساتھ اور دعا مانگتے ہوئے مجھے سے ہی مدد چاہو۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں جس استعانت کی دعا ہمیں سکھائی