ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 178 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 178

178 عبادت میں شریک ہیں لیکن یہ وقتی شرکت ہے، چند لمحوں کی شرکت ہے۔جب تک اس جمعہ پر یہ گاڑی ٹھری رہے گی وہ بھی شریک رہیں گے جب یہ گزر جائے گی تو پھر وہ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوں گے۔خدا کی راہ کے مسافروہی ہیں جو عبادت کی گاڑی پر سوار ہو کر پھر اس کو چھوڑتے نہیں۔سٹیشنوں پر اترتے ہیں تو عارضی طور پر لیکن دائم کے سوار ہیں، ہمیشہ ہمیش کے مسافر ہیں اور کبھی بھی وہ عبادت سے تعلق قائم کر کے پھر تعلق توڑا نہیں کرتے۔ایسے لوگوں کے مختلف احوال ہیں جو وقتی طور پر آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔بعض ایسے بھی ہیں جنہیں پھر خدا یہ توفیق بخشتا ہے کہ ان کے دل میں بھی سفر کا شوق پیدا ہو جاتا ہے۔وہ وداع کرنے آتے ہیں، پھر آتے ہیں، پھر خیال آتا ہے کہ کیوں نہ ہم بھی اس گاڑی کے مسافر بن جائیں تو وہ لوگ جو بچے ایمان لانے والے ہیں ان میں کمزور بھی ہیں لیکن رفتہ رفتہ کمزور طاقت ور ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان کی بدیاں جھڑتی چلی جاتی ہیں اور بدیوں کی بجائے نیکیاں عطا ہوتی چلی جاتی ہیں۔پس بچے مومنوں کی گاڑی ہمیشہ پہلے سے زیادہ بھرتی رہتی ہے۔وہ لوگ جو پیچھے رہ جانے کے عادی ہیں اور ہمیشہ پیچھے رہ جانے کے عادی ہیں ان کے متعلق بھی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالٰی ضرور ان کو عذاب دے گا یا ان سے ناراضگی کا اظہار فرمائے گا۔بعض خوش قسمت ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی موت کی گھڑی سعادت کی گھڑی ہوتی ہے۔ایسی حالت میں اللہ ان کو بلاتا ہے کہ وہ نیکی کی حالت میں ہوتے ہیں، ایسے خوش نصیب وہ ہیں جو توقع رکھ سکتے ہیں کہ اگرچہ ہم کبھی کبھی آئے لیکن خدا نے اس وقت بلایا جبکہ ہم نیکوں میں شمار ہو رہے تھے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں یہ دعا خصوصیت سے سکھائی کہ اے خدا! ہمیں اس وقت بلانا اس وقت ہمیں مارنا جب ہم تیرے حضور نیکوں میں شمار ہو رہے ہوں تو ہمیں چاہئیے کہ ان چھوڑنے کے لئے آنے والوں کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اور خصوصیت سے یہ دعا کریں کہ ان سب کے انجام نیک ہوں اور رفتہ رفتہ ان کو بھی عبادت کے دائمی سفر کی توفیق عطا ہو۔انعام پانے والوں کے رستہ پر چلنے کی توفیق میں نے گزشتہ چند خطبات میں سورہ فاتحہ کا ذکر کیا تھا کہ کس طرح سورۂ فاتحہ