ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 170
170 ہمیں ان لوگوں کی راہ دکھا جن کا قبلہ ہمیشہ تو رہا ہے۔تیری حضوری سے وہ اپنے وجود کو ہمیشہ نیا حسن عطا کرتے رہے یعنی وہ لوگ جن کا اجر تیرے پاس ہے اور تیرے تعلق کے فیض سے وہ ہر دوسرے خوف اور غم سے آزاد ہو گئے۔ہمیں ان لوگوں کی راہ دکھا جو جس راہ پر بھی چلے ہمیشہ تجھے پیش نظر رکھا۔اے خدا جو تمام وسعتوں کا مالک خدا ہے۔ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔جو کچھ زمین و آسمان میں ہے اس کا ہے اور ہر چیز اسی کی اطاعت کا دم بھرتی ہے۔وہ جو زمین و آسمان کو عدم سے وجود میں لانے والا ہے اور جب کسی تخلیق کا ارادہ باندھتا ہے تو فرماتا ہے کہ ہو جا اور لازما وہ ہو کر رہتی ہے۔پس اے خدا! ہمیں اس یقین کے ساتھ ان راہوں پر چلا کہ ہم ایسی قدرتوں کے مالک خدا سے مدد مانگنے والے ہیں۔پھر ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو تیری کتاب کی متلاوت کرتے ہیں اور اس کا حق ادا کرتے ہیں یعنی دن رات تلاوت کے لئے وقت نکالتے پھر غور اور سمجھ کے ساتھ تیری کتاب کی تلاوت کرتے ہوئے اس کے مضامین کو اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس کے مضامین میں ڈوبنے کی کوشش کرتے ہیں، سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر وقت اپنے آپ کو اس کتاب کی کسوٹی پر پر کھتے رہتے ہیں۔یہ مضمون ہے جو حق تلاوت کا مضمون ہے ہم اس کی بھی دعا مانگتے ہیں۔اور پھر یہ دعا مانگتے ہیں کہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرح ہمیں ہماری قربان گاہیں دکھا۔ہمیں آزمائشوں میں ڈال لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان آزمائشوں پر پورا اترنے کی بھی توفیق عطا فرما۔اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو مرتے دم تک تیرے حضور سپردگی کے عالم میں رہتے ہیں۔تسلیم و رضا کی حالت میں رہتے ہیں۔اپنے آپ کو تیرے حضور پیش کر دیتے ہیں اور پھر اپنے وجود کو تجھ سے واپس نہیں لیتے اور مرتے وقت اپنی اولاد کو بھی یمی نصیحت کرتے ہیں کہ توحید پر قائم رہنا اور خدا سے تعلق باندھے رکھنا اور کبھی اس تعلق کو نہ تو ڑنا کیونکہ اس تعلق کے توڑنے پر تم ہمیشہ کے لئے ہلاک کر دیئے جاؤ گے۔پس وفا کے ساتھ توحید پر قائم رہتا اور ایک خدا سے اپنے تعلق کی حفاظت کرنا۔