ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 164
164 مطلب سمجھاؤں جو ہم سب روزانہ بار بار مانگتے ہیں اور اکثر ہم میں سے جانتے ہی نہیں کہ ہم کیا مانگ رہے ہیں۔پس جو کچھ آپ مانگیں ہوش سے مانگیں۔سمجھ کر مانگیں کہ کیا مانگا جا رہا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ سے فضل کی امید رکھیں اور اس سے رحم کے طلب گار ہوں کہ وہ ان مشکلوں کو ہمارے لئے آسان کر دے جو ہم ہوش مندی کے ساتھ خود خدا سے طلب کر رہے ہیں۔دیکھیں! ایک چھوٹے سے معاہدے کے لئے جو دنیا کے سودوں میں کیا جاتا ہے آپ ایک قابل وکیل سے مدد چاہتے ہیں۔اس سے مدد چاہتے ہیں کہ کہیں دھوکے میں مبتلا نہ ہو جائیں۔کوئی ایسی بات معاہدے میں نہ لکھی جائے جس کو ہم نبھا نہ سکیں تو وہ معاہدہ جو قرآن کریم کا معاہدہ ہے جسے خدا میثاق قرار دیتا ہے اس پر عمل کرنے سے پہلے اس پر دستخط کرنے سے پہلے معلوم تو ہونا چاہیے کہ کس بات پر دستخط کیے جا رہے ہیں لیکن چونکہ دنیا والے غلطیوں کو معاف نہیں کیا کرتے اور ایک ایک قطرہ خون کا حساب مانگتے ہیں اس لئے دنیا کے معاہدوں میں تو انسان غلطی کرے تو ساری عمر اس کا خمیازہ بھگتا رہتا ہے لیکن یہ معاہدہ ایک ایسی ذات سے کیا جا رہا ہے جو بے حد غفور و رحیم ہے جو قدم قدم پر بخشش کے وعدے بھی کرتی ہے۔وہ عجیب طرح سے حساب کرتی ہے۔اچھا! یہ بھی میں معاف کر دیتا ہوں۔یہ بھی میں معاف کر دیتا ہوں۔یہ بھی معاف کر دیتا ہوں اور یہ بھی معاف کر دیتا ہوں یہاں تک کہ اسکی معافیوں کا سلسلہ اس کے حساب طلب کرنے والے سلسلے پر غالب آجاتا ہے اور اس کی رحمت ہر انسان کی لغزش کو ڈھانپ لیتی ہے پس اگر اور نہیں تو یہ مضمون ہی انسان کے دل کے لئے تسلی کا موجب بن جاتا ہے کہ ہمارا خدا ایسا خدا ہے جو اگر چاہے تو ان کو بھی معاف فرما دیتا ہے جن کے اعمال تمام تر اچھے نہیں تھے۔انہوں نے بدیاں بھی کیں اور اچھے اعمال بھی کئے۔اچھوں اور بروں کو ساری عمر ملائے رکھا اور کبھی ان کو تو بہ کی یہ توفیق نہیں ملی کہ زندگی کے کسی موقعہ پر وہ یہ کہہ سکیں کہ اب ہم اپنی بدیاں جھاڑ کر نیکیوں میں داخل ہو چکے ہیں۔عمر بھر وہ نیکیوں اور بدیوں کے ساتھ ملے جلے رہے اور اسی طرح گھٹتے گھٹتے خدا کے قرب کی راہوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہے۔فرمایا : میں چاہوں