ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 151 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 151

151 ہے کہ جسم کی غذا کو خدا نے کم کیا ہے اور روح کی غذا کو بڑھایا ہے۔اس لئے روزے کا ایک تعلق جسم سے ہے جس میں اس کی غذا کو کم کیا گیا ہے۔ایک تعلق روح سے ہے جس میں اس کی غذا کو بڑھایا گیا ہے۔پس اگر تم روح کی غذا بڑھاؤ گے نہیں اور محض جسم کی غذا گھٹاتے چلے جاؤ گے تو یہ فاقہ کشی ہے، روزہ نہیں، اس مضمون کو آرام سے نرم لفظوں میں بچوں کی زبان میں ان کو سمجھائیں اور ان کو نوافل پڑھوانا شروع کریں۔اور چھوٹی عمر میں اگر نفلوں کی عادت پڑ جائے اور احساس ہو کہ میں نے وقت کے اوپر اٹھتا ہے اور نفل پڑھنے ہیں تو وہ عادت بعض دفعہ ہمیشہ کے لئے دل پر نقش ہو جاتی ہے اور انسانی فطرت کا حصہ بن جاتی ہے۔میں نے جو تجد پڑھنے والے اکثر لوگ دیکھتے ہیں رہ وہی ہیں جن کو بچپن میں عادت پڑی ہے یا جن کے گھروں میں بعض بزرگ تجد پڑھا کرتے تھے اور بچپن میں انہوں نے دیکھا۔دل پر اس کی عظمت بیٹھ گئی۔خواہ وقتی طور پردہ نہ بھی پڑھ سکے ہوں بعد میں ان کو عادت پڑ گئی مگر جو گھر ذکر سے خالی ہوں وہ تو ليتني والی بات ہے کہ کاش ان کی دوستی ہمیں نصیب نہ ہوتی۔جہاں تجد تو درکنار نمازوں کا بھی اہتمام نہ ہو وہ زندگی سے خالی گھر ہیں۔وہاں جو بچے پلتے ہیں ان کی حالت سخت قابل رحم ہے لیکن بہت سے ایسے گھر ہیں جو رمضان کے مہینے میں جاگ اٹھتے ہیں۔رمضان کے مہینے میں ان میں زندگی کی چہل پہل دکھائی دیتی ہے، اس سے فائدہ اٹھانا چاہئیے اور ان گھروں کو خود بھی عبادت پر ہمیشہ قائم رہنے کے عزم کرنے چاہئیں اور رمضان المبارک میں بچوں کو عبادت کی عادت ڈالنی چاہئے۔بعض دفعہ جو عادت بچے اختیار کرتے ہیں اس پر وہ قائم رہتے ہیں اور بڑے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔پھر بچے ان کو یاد کراتے ہیں اور کہتے ہیں۔بھئی! آپ تو ہمیں کل کہہ رہے تھے کہ نماز پڑھا کرو اور تجد پڑھا کرو۔آپ تو اب مزے سے رات کو دیر تک باتیں کرتے ہیں اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں تو یہ کیا بات ہوئی؟ بچہ بعض دفعہ بے تکلفی سے اپنے ماں باپ کو ایسی باتیں سنا دیتا ہے کہ اگر کوئی باہر سے سنائے تو اس سے لڑائی ہو جائے تو یہ دن ہیں۔ان سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں۔اللہ ہم سب کو ذکر کی توفیق عطا فرمائے اور ایسے رنگ میں عبادت کی توفیق بخشے کہ ہمیں عبادت میں گرمی لذت آنی شروع ہو جائے اور سب۔۔