ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 109
109 ہونے والی کھادیں ہوں ان سب میں جزو اعظم نائیٹروجن ہوتی ہے۔اب فضا میں جو ائیٹروجن تحلیل ہو کر ہمارے ہاتھوں سے یا نباتات کے ہاتھوں سے نکل چکی ہوتی ہے سے دوبارہ زمین میں لانے کے لئے بجلی کے کڑکے ضروری ہیں چنانچہ وہ پانی جو آسمان سے بڑاتا ہے۔بجلی صرف اس پانی کو بنانے کا کام نہیں دے رہی ہوتی بلکہ اس میں نائیٹروجن تحلیل کرنے کا کام بھی دے رہی ہوتی ہے۔آسمان پر یہ کارخانہ بھی ساتھ لگا ہوا ہے کہ اگر غذا ساتھ نہ ہو تو خالی پانی کا کیا فائدہ؟ تو آسمان سے جو پانی برستا ہے وہ اپنی غذا بھی ساتھ لے کے آتا ہے، سبھی آپ نے دیکھا ہو گا کہ دس پانی کنویں کے دیں مگر آسمان سے برسنے والا ایک پانی کھیت کی جو حالتیں بدلتا ہے اور اس میں جو ایک نئی تازگی پیدا کر دیتا ہے اس پر دونوں کا آپس میں مقابلہ نہیں ہو سکتا۔یعنی زمینی پانی اس میں کوئی شک نہیں کہ فائدہ ضرور دیتا ہے۔بعض جگہوں کے پانی ذرخیز بھی ہوتے ہیں لیکن بارش کے ذریعے اگر نائیٹروجن دوبارہ زمین کو نہ ملتی تو یہ زمین اب تک ویرانہ ہو چکی ہوتی۔بجلی کے لڑکوں کے ذریعہ اتنی زیادہ نائیٹروجن بنتی ہے کہ بعض سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ساری دنیا میں جو کارخانے نائیٹروجن بنا رہے ہوتے ہیں ان سے کہیں زیادہ نائیٹروجن بجلی کے لڑکوں کے ذریعے ایک دن میں بنتی ہے اور پھر پانی میں تحلیل ہو کر دوبارہ مٹی کو ملتی ہے، تو اب دیکھ لیں يُسبحُ الرَّعْدُ يَعْمرہ میں کیسا عجیب ایک اور مضمون داخل ہو گیا۔عام آدمی سمجھتا ہے کہ یہ جلانے کے لئے یا ہلاک کرنے کے لئے ہے۔غور کیا تو پتہ چلا کہ یہ جلانے اور ہلاک کرنے کے لئے نہیں بلکہ یہ روئیدگی پیدا کرنے کے لئے اور بڑھانے کے لئے اور نشو و نما کی خاطر ہے۔پس اس کی ہلاکت بھی معنی رکھتی ہے اور وہ بھی فائدے ہی کے لئے ہے مگر یہ ایک ECOSYSTEM کا مضمون ہے جس کو تفصیل سے یہاں بیان کرنا ممکن نہیں۔لطف کی بات یہ ہے کہ اس کا جو حصہ چلانے کے کام آتا ہے وہ بھی عظیم بر فوائد کی خاطر ہے۔زندگی کا آغاز بجلی کے کڑکے سے ہوا یہ تو زندگی کو سہارا دینے کا مضمون ہے یعنی ربوبیت کا وہ مضمون جو زندگی پیدا ہونے کے بعد جاری ہوتا ہے۔پس يُصبح الرعد میں دیکھیں خدا تعالٰی نے کیا