ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 53
53 این رحمانیت کی صفت کے بے پناہ جلوے مضمون پر غور کرتے ہوئے جب آپ رحمانیت میں سفر شروع کرتے ہیں تو آپ یہ سوچ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ ربوبیت بہت وسیع طور پر اثر انداز دکھائی دیتی ہے اور قانون قدرت اور تخلیق میں کار فرما نظر آتی ہے لیکن جب کچھ بھی نہ ہو تو رحمانیت کے سوا کسی چیز کا آغاز ہوہی نہیں سکتا۔کیونکہ رحمان کے اندر بن مانگے دینے والے کا معنی پایا جاتا ہے یعنی ابھی مسائل کا وجود ہی پیدا نہیں ہوا۔کوئی کچھ مانگنے کے لئے دربار میں حاضر نہیں ہوا لیکن اس کے لئے عطا کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔پس حقیقت میں تخلیق کا بھی رحمانیت کے ساتھ تعلق ہے اور علم کا بھی رحمانیت کے ساتھ تعلق ہے اور تخلیق کا تعلق تو آپ کو فوراً سمجھ آگیا جب آپ دوبارہ اس آیت پر غور کریں تو آپ کو سمجھ آجائے گی کہ رحمان کے ساتھ تخلیق کو کیوں باندھا تھا الرَّحْمَنِ : عَلَّمَ الْقُرْآنَ - خَلَقَ الْإِنْسَانَ - عَلَّمَهُ الْبَيَانَ - کہ رحمان نے انسان کی تخلیق کی ہے اور رحمان ہی تھا جس نے قرآن عطا کیا۔تخلیق کے لئے رحمانیت کا جوڑ سمجھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے بہترین مثال پیش فرما دی انسان کی۔انسان تخلیق کی وہ آخری شکل ہے جس میں سب سے زیادہ رحمانیت جلوہ گر ہے۔کیوں کہ انسان کو سب سے زیادہ وہ چیزیں عطا ہوئی ہیں جو بن مانگے عطا ہوئیں اور جو درجہ کمال تک پہنچی ہوئی ہیں۔کوئی اور مخلوق اس میں انسان کا مقابلہ نہیں کرتی بلکہ تمام کائنات کا خلاصہ انسان ہے تو خلق الانسان کا فاعل رحمان قرار دے دینا اور یہ فرمانا کہ رحمان نے انسان کی تخلیق کی ہے نہ صرف ہمیں یہ بتاتا ہے کہ تخلیق کا آغاز رحمانیت کے نتیجے میں ہوا ہے بلکہ تخلیق پر غور کرنے سے سمجھ آجاتی ہے کہ کیوں رحمان کو خالق کہا گیا کیونکہ وہی مضمون دوبارہ ابھرتا ہے جو میں نے آپ سے پہلے بیان کیا ہے کہ ہر تخلیق میں ضرورت واجبی کے علاوہ چیزیں عطا کی گئی ہیں۔ضرورت حقہ کا لفظ میں نے پہلے استعمال کیا تھا غالبا ضرورت واجبی کہنا زیادہ درست ہے یعنی وہ ضرورت جو کم سے کم ہے جس کے پورا ہو جانے کے بعد چیز کو بقاء نصیب ہو جاتی ہے اور پیاس بجھ جاتی ہے وہ ضرورت پورا کرنے کے بعد اگر مزید کچھ عطا کیا جائے تو وہ واجبی ضرورت سے زیادہ ہے