ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 505
اسلام آباد (یو۔کے) ۲ اگست ۱۹۹۱ء 505 يشو الله الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ نمازوں کے سلسلے کا آخری خطبہ تشهید و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا :- نمازوں کے سلسلے میں جو خطبات دئیے جا رہے ہیں، آج یہ غالبا" اس سلسلے کا آخری خطبہ ہے۔میں نے گزشتہ خطبہ میں التحیات پر گفتگو ختم کی تھی لیکن التحیات کا مضمون ابھی جاری تھا۔اس لئے التحیات ہی سے میں اس مضمون کو دوبارہ اٹھاتا ہوں۔التحیات کا مطلب ہے تھے۔اور تحفوں کا تعلق عام دیگر انسانی لین دین کے معاملات سے بالکل الگ اور ممتاز ہوتا ہے۔اس میں انسان ایک چیز کسی دوست یا کسی بڑے کے حضور اس خاطر پیش کرتا ہے کہ اس کے نتیجے میں اسے ویسی کوئی چیز نہ ملے بلکہ اس کی محبت اور رضاء حاصل ہو اور یہی تھے کا مفہوم ہے۔اس نقطہ نگاہ سے جو بھی مالی قربانی خدا کی راہ میں ہم پیش کرتے ہیں ان کے اندر بڑھا کر واپس لینے کا مضمون قربانی کرنے والے کے ذہن میں نہیں آنا چاہئیے۔اسی مضمون کو قرآن کریم یوں پیش کرتا ہے کہ ولا تمنن تستغيرُ کہ تو یہ سوچ کر احسان نہ کیا کر کہ تو بڑھا کر واپس لے گا۔اس لئے اگرچہ آپ کو بار بار یہ سمجھایا جاتا ہے کہ خدا تعالٰی ہمیشہ بہت پڑھا چڑھا کر دیتا ہے لیکن اگر اس نیت سے خدا کے حضور پیش کیا جائے کہ زیادہ ملے گا تو یہ بہت ہی اونی سودا ہے اور اپنی قربانی کو تھنے کی بجائے ایک عام تجارت بنا دینے والی بات ہے۔خدا سے تجارت کا معاملہ چلتا تو ہے مگر وہاں تجارت کا مفہوم اور ہے۔پس التمیات نے ہمیں بتا دیا ہے کہ جو کچھ تم خدا کے حضور پیش کرتے ہو اس نیت سے پیش کیا کرو کہ اس کے بدلے جزاء ملے اور جزاء رضا کی جزاء ہو نہ کہ دنیاوی جزاء اس -