ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 485 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 485

485 سورہ مومنون کی ۱۰۰ تا ۱۰۲ آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ المَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ (سورة المومنون : آیت (۱۰۰) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی ایک کو موت آجائے تو وہ یہ کہے گا کہ اے خدا! مجھے لوٹا دے لَعَلى أَعْمَلْ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ خَلا تاکہ میں جو جگہ چھوڑ کر آیا ہوں اس جگہ واپس جاکر نیک اعمال بجا لاؤں یعنی اپنی زندگی کو نئے اعمال سے زینت دوں۔تحاد خبردار ایسا نہیں ہوگا۔اِنَّهَا كَلِمَةً هُوَ قائدها یہ تو محض منہ کی بات ہے جو یہ شخص کہہ رہا ہے۔وَمِن وَرَائِهِمْ بَرزخ إلى تيوم يُبْعَثُونَ۔اور ایک پردہ ایسے لوگوں کے پیچھے ہے جو قیامت کے دن تک ان کے درمیان اور حقیقت کے درمیان لٹکا رہے گا۔فَإِذَالْفِ فِي الصُّورِ فَلا انسَابَ بَيْنَهُمْ يَومعد و لا يتساءلون جب صور پھونکا جائے گا تو اس دن ان کے درمیان کوئی قرار بیتیں باقی نہیں رہیں گی اور نہ وہ ایک دوسرے کا حال پوچھ سکیں گے۔قرآن کریم میں تکرار مضامین کی حکمت ایک بات تو بارہا پہلے گزر چکی ہے کہ جب پکڑ کا وقت آجائے۔جب موت آجائے تو اس وقت بچنے کی کوئی دعا کار آمد نہیں ہوتی۔ان مضامین کو جب دہرایا جاتا ہے تو بے وجہ نہیں دہرایا جاتا بلکہ ان کے ساتھ مزید کچھ اور مضامین بیان کر دئیے جاتے ہیں۔قرآن کریم میں در حقیقت ایک ہی REPETITION نہیں ہے۔آپ کو بہت کی جگہ بعض مضامین دہرائے ہوئے دکھائی دیں گے اور انسان سمجھتا ہے کہ وہی مضمون دوبارہ وہی مضمون دوبارہ۔اس کے دو فائدے ہیں۔ایک فائدہ تو یہ ہے کہ بعض مضامین بار بار نظر کے سامنے آئیں تو انسانی فطرت پر زیادہ گہرا اثر پڑتا ہے لیکن ایک اور فائدہ یہ ہے کہ ان دہرائے ہوئے مضامین کو مختلف شکلوں میں پیش کیا جاتا ہے اور قرآن کریم میں ایک بھی ایسی دہرائی نہیں جس کا پس منظر یا بعد میں آنے والی آیات