ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 468
468 ہو چکے ہوں۔بلکہ زندگی میں توبہ کی توفیق بخشے اور توبہ کی دعا کرتے وقت ان سب بد نصیبوں کے انجام کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمیشہ یہ دعا کیا کریں کہ اے خدا ہم اس وقت مخلص ہیں لیکن تو نے ہمیں بتایا ہے کہ بعض مَغضُوبِ عَلَيْهِم بھی تو مخلص تھے۔تو نے ہمیں بتایا ہے کہ بعض گمراہ بھی تو دعا کرتے وقت مخلص تھے۔اس لئے ہم نہیں جانتے کہ ہمارا کیا انجام ہوگا۔اس لئے ہم تیرے حضور جھکتے ہوئے عاجزانہ یہ عرض کرتے ہیں کہ ہمارے اس اخلاص کو عارضی نہ بنا دینا۔ان بدنصیبوں میں ہمیں شامل نہ کرنا جن کے وقتی اخلاص کے پیش نظر تو نے ان کی التجاؤں کو قبول فرما لیا۔لیکن جب مہلت دی تو وہ دوبارہ ویسے ہی کاموں میں پڑ گئے۔اس لئے ہمیں ایسی کچی توبہ کی توفیق عطا فرما جو تیرے حضور دائی ٹھہرنے اور جب بھی ہم سے دوبارہ غلطی سرزد ہو مجرموں کی طرح ہم سے صرف نظر نہ کرنا بلکہ اس طرح صرف نظر فرمانا جس طرح اپنے بندوں پر رحم کرتے ہوئے کوئی صرف نظر کیا کرتا ہے۔پس امید ہے کہ ہم جب مضمون کو ختم کریں گے تو ہماری ان تحت عنبو کی دعاؤں میں ایک نئی جلا پیدا ہو جائے گی۔ہمیں معلوم ہو چکا ہو گا کہ انعام یافتہ لوگوں کی دعائیں کیا رنگ رکھتی ہیں اور مغضوب علی کی دعائیں کیا رکھتی ہیں۔یہ دعا قبول ہوتی ہے تو کیوں ہوتی ہے۔وہ دعا قبول ہوتی ہے تو کیوں ہوتی ہے۔اللہ تعالٰی ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ایسی صراط مستقیم جس پر ہر چند کہ شیطان بیٹھا ہو مگر ہم اس کے شکر گزار بندوں کی طرح اس پر قدم ماریں اور کبھی بھی شیطان ہمارے شکر پر حملہ نہ کر سکے۔کیونکہ وہی ہمارا دفاع ہے۔اگر ہم شکر سے عاری ہو گئے تو پھر ہمارے بچنے کی کوئی امید نہیں۔ایسی صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے جس پر انعام یافتہ مدے دعائیں کرتے ہوئے چلتے رہے۔اور بالآخر اپنی مراد کو پہنچے۔اس