ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 450 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 450

450 ابتلاؤں میں جوابی حملے کی بجائے صبر کی تلقین اس دعا کا پس منظریہ ہے۔اللہ تعالٰی فرماتا ہے الم ترال الذين امل تهُمْ كُلُوا أَيْدِيكُمْ وَالِقِيمُوا الصَّلوةَ وَأتُوا الزكوة کہ کیا تم نے ان لوگوں کا حال نہیں دیکھا جن کو اللہ تعالٰی یہ فرماتا تھا کہ تم لوگوں سے اپنے ہاتھ کو روکے رکھو۔واقيمُوا الصلوة وأتُوا الزَّعُوة اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو۔یہاں ایسے لوگوں کا نقشہ کھینچا گیا ہے جن پر یکطرفہ ظلم ہو رہے ہیں اور اس ظلم کے دور میں وہ بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں کیوں اجازت نہیں دی جاتی کہ ہم اپنا دفاع کریں۔ہمیں کیوں اجازت نہیں دی جاتی کہ ہم بھی جوابی حملے کریں۔اور اس مزاج کے لوگ جیسے پہلے زمانوں میں پائے جاتے تھے اس زمانے میں بھی پائے جاتے ہیں۔پاکستان میں جو احمدیوں پر ایک لمبا ابتلاء کا دور گزرا ہے۔اس میں مجھ سے بھی ایسے مطالبے ہوئے ہیں اور بعض خطوط کے ذریعے بھی بڑے بڑے احتجاج ملتے ہیں کہ ہمیں موقع دیں۔ہم بھی جوابی کارروائی کریں۔جس طرح وہ ہم پر ظلم کرتے ہیں ہم اس کا بدلہ ان سے اتاریں۔لیکن ان کو میں ہمیشہ صبر کی تلقین کرتا ہوں۔پس قرآن کریم فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض دفعہ مومنوں کو جوابی حملے کی اجازت نہیں دیتا۔اور یہ نصیحت فرماتا ہے کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور صبر سے کام لو۔دعا کے ذریعے اور زکوۃ کے ذریعے نیک کاموں میں خرچ کرکے تسکین قلب حاصل کرو۔لیکن وہ لوگ جب بالآخر جهاد فرض کر دیا جاتا ہے تو اس وقت ان کا مزاج بالکل الٹ جاتا ہے۔وہ جو پہلے بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمیں موقع دیا جائے ہم جوابی کارروائی کریں گے۔ان کی یہ کیفیت ہو جاتی ہے کہ کہتے ہیں۔رَبَّنَالِمَ كُتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ۔لولا اخر تنا إلى اجل قریب اے خدا اتنی جلدی تو نے جہاد فرض کر دیا ابھی تو ہمیں طاقت بھی کوئی نہیں آئی۔کاش کچھ اور مدت کے لئے اس فرضیت جہاد کو ٹال دیا ہوتا۔قُلْ مَتَاءُ الدُّنْيَا قَلِيلُ ان سے کہہ دے کہ تم دنیا میں چند دن اور بھی رہ جاؤ گے بالآخر یہ دنیا عارضی ہے۔اور اس دنیا کے فائدے بھی یعنی دنوں کے فائدے ہیں۔جو باقی رہنے والی حسنات ہیں وہ تو آخرت ہے۔پس چند دن کے جہاد کے ٹالنے سے تمہیں کیا فرق پڑے گا۔بہر حال یہ جو دعا ہے یہ اس سے پہلے کی ایک کیفیت