ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 389 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 389

واشنگٹن ڈی سی۔امریکہ ۲۱ ر چون ۶۱۹۹۱ 389 بسم اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج کا یہ خطبہ میں واشنگٹن ڈی۔سی امریکہ سے دے رہا ہوں، اور اس اعلان کی ضرورت اس لئے ہے کہ بہت سی جماعتوں میں اب براہ راست خطبے کی آواز پہنچنے لگی ہے۔چونکہ میں سفر پر ہوں اس لئے جہاں بھی کوئی خطبہ پڑھا جاتا ہے وہاں خطبہ کا آغاز اسی فقرے سے کرتا ہوں کہ میں اس وقت کہاں سے بول رہا ہوں) انعام یافتہ لوگوں کی راہ پر چلنا دعاؤں کی مدد کے بغیر ناممکن ہے یہ سلسلہ مضامین جو جاری ہے اس کا تعلق قرآنی دعاؤں سے ہے۔یعنی ان لوگوں کی دعاؤں سے جن کے متعلق ہم روزانہ سورۃ فاتحہ میں یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ! ہمیں ان انعام یافتہ لوگوں کی راہ پر چلا۔چونکہ یہ ایک بہت مشکل راہ ہے اس لئے میں نے پہلے سے ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ اس راہ پر چلنا دعاؤں کی مدد کے بغیر ممکن نہیں اور قرآن کریم نے خود ہی وہ سب دعائیں سکھا دی ہیں جن دعاؤں کی مدد سے پہلے انعام یافتہ لوگوں نے یہ مشکل راہیں طے کیں۔پس ان دعاؤں سے غافل رہ کر ہر نماز میں یہ دعا کرتے رہنا کہ اے خدا! ہمیں انعام یافتہ لوگوں کی راہ پر چلا، کوئی معقول طریق نہیں ہے۔ایک طرف تو ایک بہت ہی مشکل راہ پر چلنے کی دعا مانگی جاری ہے۔دوسری طرف ان لوگوں کی اداؤں سے پوری طرح نا واقف جن لوگوں نے اس سے پہلے ان راہوں پر چل کر خدا سے انعام پائے تھے اور خدا تعالیٰ نے ان کا ذکر تفصیل سے قرآن کریم میں محفوظ فرما