ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 28
28 میں گفتگو کا ذریعہ روشنی تھا۔پس اس انتہائی اندھیرے میں بھی خدا نے مخلوق کو روشنی کے ذریعے ایک دوسرے سے گفتگو کرنے کا سلیقہ سکھایا ہوا ہے اور ملکہ عطا کر رکھا ہے اور وہ اعضاء عطا کر دیئے ہیں جن کا بنانا آج کے سائنس دان کے اختیار میں بھی نہیں کہ اس طرح اس کو بیٹا کر جانوروں کے اندر وہ رکھ دے اور وہ ایسے حیرت انگیز طریق پر کار فرما ہوں کہ اس کو سمجھنا بھی انسان کے لئے ایک امر محال ہے یعنی اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتا۔وہ جو ٹار ہیں خدا نے نیچے بنا رکھی ہوئی ہیں مختلف قسم کی مچھلیوں کے لئے وہ ہمارے بلب جس طرح بٹنوں کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔مرضی سے جلائے بجھائے جا سکتے ہیں اسی طرح وہ روشنیاں جانوروں کی مرضی پر ہیں۔از خود طبعی طور پر نہیں جلتیں بلکہ جانوروں کی مرضی ہے جب چاہیں روشن کرلیں جب چاہیں بجھا دیں اور اتنے خوبصورت رنگ ہیں کہ بعض مچھلیاں جب اپنے سارے رنگ اکٹھے ظاہر کرتی ہیں تو کوئی آگ کا کھیل جو آپ نے دنیا میں دیکھا ہو گا اس کا مقابلہ نہیں کرتا۔حد سے زیادہ خوبصورت مناظر پیدا ہوتے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ اتنا مکمل اختیار ان کو دے دیا گیا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو اپنے ایک طرف کے آدھے جسم کو روشن کریں ، اگر چاہیں تو دو سری طرف کے آدھے جسم کو روشن کریں۔چنانچہ دوستوں کا وہ جو ڑا جو یہ پسند نہیں کرتا کہ لوگوں کو " چلے کہ ہم دوستی کر کے اکٹھے پھر رہے ہیں ان کی تصویر اس نے اسطرح کی ہوتی ہے کہ انکا وہ پہلو جو ایک دوسرے کی طرف ہے وہ خوبصورت اور چمک رہا ہے اور دوسرا پہلو بالکل تاریک ہے اور اگر ان کا رخ بدل دیں تو جو ایک دوسرے کے سامنے پہلو آئے گا وہ روشن ہو جائے گا اور جو دوسری طرف چلا جائے گا وہ مجھے جائے گا اور ان کے اندر مختلف شکلوں میں چھوٹے سے قمقمے سے بھی لگے ہوئے ہیں جب چاہیں وہ ان کو روشن کرلیں تو روشنیوں کے ذریعے گفت و شنید کا ایک نظام خدا تعالٰی نے قائم کر رکھا ہے اور وہ صرف مذکر اور مؤنث یا زر اور مادہ کے درمیان گفت و شنید کا ذریعہ نہیں بلکہ وہ ایک دوسرے کو مختلف حالتوں میں مختلف کیفیات بتانے کے لئے روشنیوں کے ذریعے پیغام بھیجتے ہیں لیکن ابھی پوری طرح ان کے حالات کو انسان سمجھ نہیں سکا۔اول تو یہ کہ بہت مشکل کام ہے دوسرا یہ کہ سائنس دانوں کا دماغ جب