ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 301 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 301

301 نے ان سب گنہ گاروں کو بچا لیا یعنی بظاہر اور جو سب سے معصوم انسان تھا اس کو ہلاکت کی طرف باہر پھینکوا دیا اور جو بھی اس پہلے شہر میں واقعہ گزرا تھا اس سے بالکل الٹ مضمون ہو گیا۔وہاں حضرت یونس ایک بھرے ہوئے شہر کو چھوڑ کر جارہے تھے، جس سارے شہر کو خدا کی تقدیر نے ہلاک کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور صرف یہ ایک معصوم انسان تھا جسے نجات کی خبر دی گئی تھی اور کشتی کی حالت یہ تھی کہ گنگاروں سے بھری ہوئی تھی اور خدا کی تقدیر یہ کہہ رہی تھی کہ ان سب کو میں معاف کرتا ہوں اس نیک بندے کو یہاں سے نکالا جائے جس نے مجھ پر بد ظنی کی ہے اور اسے ہلاکت کے منہ میں ڈال دیا جائے۔چنانچہ مچھلی نے آپ کو نگل بھی لیا، وہاں ظلمات کا لفظ استعمال کرنا اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے سکھائی ہوئی دعا تھی۔بہت ہی فصیح و بلیغ کلام ہے۔قنادى في الظلمت أن لا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَنَكَ وَإِن كُنتُ من الظلمین : ایک ظلمت کا کام اس سے سرزد ہوا تھا ساری زندگی نور میں کئی اور ہلکا سا ظلمت کا سایہ آیا جو اس نے خدا تعالٰی پر بد علنی کرلی۔اس کے نتیجے میں وہ ظلمات میں گھیرا گیا۔قتادى في الظلمت کئی قسم کے اندھیروں میں اس نے بے اختیار یہ دعا کی۔آن لا إله إلا انت اے خدا تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔شبختك تو بہت ہی پاک ہے۔اني كنتُ مِنَ الظَّلِمِينَ میں ہی ظالم انسانوں میں سے تھا۔اور ظلمت اور ظلم یہ دونوں ایک ہی طبع سے نکلے ہیں اور دونوں ہم معنی ہیں۔ظلم کا مطلب گناہ بھی ہے اور اندھیرا بھی ہے۔پس اس دعا کے نتیجہ میں اللہ تعالٰی نے آپ کو دوبارہ نجات بخشی اور یہ فرمایا لولا آنها كَانَ مِنَ الْمُعِينَ میں نے جو یونس کو معاف کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی ساری زندگی تسبیح و تحمید میں گزری تھی۔پس خدا تعالٰی اپنے بندوں کی سابقہ نیکیوں کو بھی ہمیشہ پیش نظر رکھتا ہے اگرچہ غلطی بہت بڑی ہی کیوں نہ ہوئی ہو جو خدا توقع رکھتا ہے اس کے خلاف انسان سے بعض دفعہ کوئی ایسی غلطی سرزد ہو جاتی ہے جس سے گویا اس کا پچھلا سارا اعمال نامہ سیاہ شمار کر لیا جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نیک بندوں کی نیکیوں کو اس طرح بھلا