ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 169
169 ہمیں ایسا بنا دے کہ والدین کے حقوق ادا کرنے والے ہوں ان کی دعائیں لینے والے ہوں۔اور سب اقرباء سے حسن سلوک کرنے والے ہوں اور تیموں کا خیال رکھنے والے ہوں۔مسکینوں سے حسن سلوک سے پیش آنے والے ہوں اور تیرے سب بندوں سے نرمی کی گفتگو کرنے والے ہوں۔ہماری گفتگو میں حسن ہو۔کراہت کی بات نہ ہو۔وہ لوگ جو گھر میں ایک دوسرے سے نرمی کی بات نہیں کرتے ان سے عام دنیا میں کم توقع کی جاتی ہے کہ وہ نرمی کی گفتگو برتے ہوں گے لیکن بعض ایسے ظالم بھی ہیں کہ دوستوں سے نرم اور اپنے گھر والوں سے سخت حالانکہ مضمون، والدین اور اقرباء اور نزدیک کے رشتے داروں کے ذکر سے شروع ہوتا ہے۔پس ایسی نرمی جو دوستوں کے لئے ہو اور گھر والوں کے لئے نہ ہو اس نرمی کا ان لوگوں کے ذکر میں کہیں شمار نہیں ہے۔خدا تعالیٰ نے مراتب کے لحاظ سے نیکیوں کا ذکر فرمایا۔پس جب ہم کہتے ہیں إهدنا القيرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ تو ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی تو نگاہ رکھیں۔اگر ان پر نگاہ نہیں رکھیں گے تو بڑی باتوں کا نہ حق ادا کر سکتے ہیں نہ بڑی باتیں مانگنے کی جرات کر سکتے ہیں اور جب بھی آپ بڑے بڑے مضامین کو سوچ کر اپنے دل کو ٹولیں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ آپ کی دعا میں طاقت نہیں ہے کہ ان مضامین کی متحمل ہو سکے۔وہ کانپ جاتی ہے جیسے کوئی بڑا بھاری وزن کوئی کمزور انسان اٹھانے کی کوشش کرے تو یہ دعا ہی بہت بھاری ہے لیکن اگر ہم غور کرنے والے ہوں اور اگر یہ دعا اٹھا لیں تو اس دعا کے نتیجے میں جتنی ذمہ داریاں ہیں اگر بچے دل سے اس دعا کو اٹھا لیں تو وہ خدا خود اٹھا لیتا ہے۔یہ یقین ہے جو ایک مومن کے دل میں ہونا چاہیے اور اس یقین کے بغیر اس دعا کی ہمت بھی نصیب نہیں ہو سکتی۔چنانچہ ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ اسی طرح جن لوگوں نے تیری عبادت کو قائم کرنے اور تیری راہ میں خرچ کرنے کا عہد کیا اور پھر وفا کے ساتھ ان عہدوں کو نبھایا ہمیں ان لوگوں کے رستے پر چلا۔اے خدا! ہمیں ان لوگوں کی راہ دکھا جو اس بات سے بے خبر نہیں کہ تو ہی زمین و آسمان کا مالک ہے اور تیرے سوا کوئی دوست اور مددگار ان کے کام نہیں آسکتا۔