ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 132
132 صرف فرق یہ ہے کہ اسے اپنے ظلم کی توفیق نہیں ملتی یا کم ملتی ہے۔پس ظالم ہوتا یا نہ ظالم ہونا انسان کے اندرونی رجحانات سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں۔میں نے تو جہاں تک نظر ڈالی ہے تیسری دنیا میں بھی اکثر ممالک ایسے ہیں جب بھی انہیں توفیق ملی ہے انہوں نے ظلم سے کام لیا ہے وہی صدام حسین جن کے عراق پر یک طرفہ ظالمانہ بمباری کے نتیجے میں تمام مسلمانوں کے دل خون ہو رہے تھے اور سخت اذیت میں مبتلا تھے اب اندرونی طور پر ان کو چھٹی ملی ہے کہ جبر کے ساتھ بغاوتوں کو نا کام کردیں اور ملیا میٹ کردیں تو اس جبر سے آگے بڑھ رہے ہیں جس جبر کی انسان کو خدا تعالیٰ کا خوف اجازت دیتا ہے۔ایک جبر کے مقابل پر جبر ہے جس کی قرآن کریم نے اجازت دی ہے اور خدا کے خوف کی راہ میں یہ بات مانع نہیں ہے لیکن وَلا تَعْتَدُوا کی شرط کے ساتھ کہ ہر گز تم نے مقابل پر زیادتی نہیں کرنی۔انتقام اس رنگ میں نہیں لینا کہ جتنا تم پر ظلم ہو رہا ہے اس سے زیادہ ظلم کردیا انسانی قدروں کو پامال کرتے ہوئے قلم شروع کردو۔پس کردوں کے مقابل پر یہ ظلم ہو رہا ہو یا شیعوں کے مقابل پر ظلم ہو رہا ہو۔جو بھی مشکل ہے، ہر قوم کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ باغیوں کے سر کچلے لیکن یہ حق نہیں کہ ان کو آگ کا عذاب دے کر مارے جیسا کہ امریکہ نے نیپام بم کے ذریعے عراقی فوجیوں پر ظلم کئے تھے یا گیس سے مارے یا تیزاب برسا کے مارے۔اگر یہ باتیں جو بیان کی جارہی ہیں کچی ہیں تو پتہ یہ لگا کہ ادھر بھی ظلم تھا اور ادھر بھی ظلم ہے۔پھر ہماری یہ دعا جس کی میں نے تلقین کی تھی کہ اے اللہ ! حق کو فتح دے یہ کس کھاتے میں جائے گی۔حق تو پھر صرف اتنا سا باقی رہ گیا تھا کہ کویت پر ان کا حملہ نا جائز تھا اور ان کو کویت خالی کر دینا چاہئیے تو کویت سے انخلاء کی جد تو ہماری حق والی دعا قبول ہو گئی۔اس کے بعد اگر حق ایک طرف ہو ہی نہ اور دونوں طرف ظلم شامل ہو جائے تو یہ دعا کسی کے بھی حق میں مقبول نہیں ہو سکتی۔پس یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو حق نصیب کرے۔اس وقت تو یہ زمانہ آگیا ہے کہ انسان کنگال ہوا بیٹھا ہے۔اخلاق سے عاری ہو گیا ہے۔حق سے عاری ہو گیا ہے۔غریب قومیں اگر دوسری ہمسایہ قوموں پر ظلم نہیں کرتیں تو اپنے ملک کے غریب