زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 88
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 88 جلد چهارم دوسرے دستہ فوج کو خزانہ پر متعین کیا گیا ہے اور تیسرے دستہ فوج کو بادشاہ کی حفاظت کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ظاہر ہے کہ اس حالت میں تینوں فوجوں کی ذمہ داری مختلف ہے۔اس فوج کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے جسے بادشاہ کی جان کی حفاظت کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔اس سے اتر کر اُس فوج کی ذمہ داری ہے جو خزانہ کی حفاظت پر متعین ہے۔اور اس سے اتر کر اُن لوگوں کی ذمہ داری ہے جنہیں لکڑیوں اور اینٹوں وغیرہ پر مقرر کیا گیا ہے۔صلى الله الله حدیثوں میں آیا ہے کہ صحابہ میں سے سب سے جری اور بہادر وہ ہوتا تھا جو رسول کریم ے کے پاس کھڑا ہوتا تھا 2 اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے صحابہ کم بہادر ہوتے تھے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کے پاس کھڑے ہونے والے کی ذمہ داری بہت زیادہ بڑھ جایا کرتی تھی۔کیونکہ اس کا کام صرف یہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ لڑے بلکہ اس کا کام یہ بھی ہوتا تھا کہ وہ رسول کریم ﷺ کی جان کی حفاظت کرے۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے صحابہ کے سامنے ایک تلوار پیش کی اور فرمایا کہ یہ تلوار میں اس شخص کو دوں گا جو اس کی ذمہ داری ادا کرے گا۔کئی صحابہ نے ہاتھ بڑھایا لیکن آنحضرت ﷺ نے آخر وہ تلوار حضرت علی کرم اللہ وجھہ کو دی 3 اور حضرت على كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ نے فی الواقعہ اس قدر بہادری کے جوہر دکھائے کہ آپ نے اس تلوار کا حق ادا کر دیا۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو ایک جھنڈا دیا اور کہا کہ یہ جھنڈا اس شخص کو دیا جائے گا جو اس کا حق ادا کرے گا۔اس پر ایک صحابی نے کہا یا رسول اللہ ! یہ جھنڈا مجھے دے دیں۔آپ نے جھنڈا اس صحابی کو دے دیا۔اس کے بعد کفار کے لشکر سے لڑائی ہوئی۔وہ صحابی دائیں ہاتھ سے تلوار چلا رہا تھا اور اس کے بائیں ہاتھ میں جھنڈا تھا۔دشمنوں نے اس پر یہ دیکھ کر حملہ کیا کہ اگر جھنڈا اس کے ہاتھ سے گر گیا تو اسلامی لشکر منتشر ہو جائے گا۔چنانچہ دشمنوں نے اس صحابی کا وہ ہاتھ کاٹ دیا جس میں اس نے جھنڈا پکڑا ہوا تھا۔جب اس کا وہ ہاتھ کٹ گیا تو اس نے جھنڈے کو اپنی بغل میں دبا لیا۔پھر اس کا