زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 79
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 79 جلد چهارم سے اثر قبول کرتی ہیں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے باقی جتنی بھی چیز میں ہیں وہ ساری کی سماری دوسروں کے اثر کو قبول کرتی ہیں۔یہ قانونِ الہی دنیا میں اس قدر جاری ہے کہ ہر چیز میں اس کا نفوذ پایا جاتا ہے۔یہاں تک کہ بعض لوگوں نے اس قانون کو دیکھتے ہوئے یہ خیال کر لیا ہے کہ اس دنیا کے چلانے میں کسی بالا رادہ ہستی یا کسی بیرونی شے کا دخل نہیں بلکہ یہ آپ ہی آپ اُس طرف چلی جا رہی ہے جس طرف اس کا رخ ہے۔جو لوگ اس فن کے ماہر ہیں انہوں نے تو تحقیقات سے یہ ثابت کیا ہے کہ مختلف جانوروں نے رنگ بھی اپنے ماحول سے قبول کئے ہیں۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ جو چیزیں جنگل میں رہتی ہیں اور تپتی ہوئی ریتوں میں ان کی زندگی بسر ہوتی ہے ان کے رنگ خاکستری ہوتے ہیں۔اور جو چیزیں درختوں پر رہتی ہیں ان کے رنگ درختوں کے رنگوں کے مشابہ شوخ ہوتے ہیں۔مثلاً طوطے بالعموم بڑیا گولر یا پیپل کے درختوں پر رہتے ہیں۔ان کے رنگ انہی درختوں کے مشابہ ہیں جن پر وہ رہتے ہیں۔تو ماہرین فن کہتے ہیں کہ ان جانوروں نے آہستہ آہستہ ان درختوں سے رنگ قبول کیا ہے جن پر وہ عموماً رہتے ہیں۔اسی طرح جنگلوں میں رہنے والی چیزیں جنگلوں کے اس ماحول سے رنگ قبول کرتی ہیں جن میں وہ رہتی ہیں۔مثلا تیتر ہیں ان کے رنگ ملتے ہیں ان جنگلات یا جھاڑیوں سے جن میں وہ رہتے ہیں۔چنانچہ ان کے رنگ خاکستری ہوتے ہیں۔غرض یہ قانون اس قدر حاوی ہے کہ پانی میں رہنے والی مچھلیاں بھی اس پانی کے مشابہ ہوتی ہیں جن میں وہ رہتی ہیں اور بعض پر تو پانی کی لہریں اس طرح بنی ہوئی ہوتی ہیں کہ اگر ان کو سامنے رکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پانی بہ رہا ہے۔اسی طرح پتھروں میں بھی یہ باتیں پائی جاتی ہیں۔اگر آپ میں سے کسی کو کبھی دریا پر جانے کا اتفاق ہوا ہوگا تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ دریا میں مختلف قسم اور مختلف رنگوں کے پتھر ہوتے ہیں ان پتھروں کی جس جس حصوں میں نشو و نما ہوئی ہے یا جس قسم کے پہاڑ پر وہ پڑے رہے ہیں آہستہ آہستہ انہوں نے اسی کے مطابق رنگ یا شکل اختیار کر لی۔تو معلوم ہوا کہ تمام جمادات، نباتات اور حیوانات میں یہ بات