زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 78

زریں ہدایات (برائے طلباء) 78 جلد چهارم نصرت گرلز ہائی سکول قادیان میں ایک نہایت اہم خطاب اپنے آپ کو اسلامی اخلاق کا اعلیٰ نمونہ بنا ؤ اور اپنی زندگیوں کو اس رنگ میں ڈھالو کہ تم بڑے ہو کر اسلام کی خدمت کر سکو۔بچے بہت جلد اثر قبول کرتے ہیں اس لئے ان کی حفاظت اور تربیت کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے 25 جولائی 1937ء کو 8 بجے صبح نصرت گرلز ہائی سکول قادیان کے اساتذہ، استانیوں اور طالبات سے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ایک اہم خطاب فرمایا۔جس میں آپ نے انہیں اسلامی اخلاق کا اعلیٰ نمونہ بنے اور نئی پود کی صحیح تربیت کرنے کی طرف نہایت لطیف پیرایہ میں توجہ دلائی۔تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ایک ایسا قانون جاری کیا ہے جس کے متعلق اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ تمام مخلوق اس قانون کے ماتحت ہے۔انسان بھی اس قانون کے ماتحت ہے۔حیوان بھی اس قانون کے ماتحت ہیں۔سبزیاں اور ترکاریاں بھی اس قانون کے ماتحت ہیں۔پھل اور پھول بھی اس قانون کے ماتحت ہیں اور گھاس اور پھوس بھی اس قانون کے ماتحت ہے حتی کہ جمادات مثلاً پتھر اور لوہا وغیرہ بھی اس قانون کے ماتحت ہیں۔وہ قانون یہ ہے کہ ہر چیز اپنے ہمسائے کے اثر کو قبول کرتی ہے۔دنیا میں کوئی چیز منفر د یعنی اکیلی نہیں۔ایسی ذات جو کسی اثر کو قبول نہیں کرتی بلکہ تمام دوسری چیزیں اس