زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 71
زریں ہدایات (برائے طلباء) 71 جلد چهارم آنکھ پر اس زور سے مارا کہ ان کی آنکھ کا ڈیلا باہر آ گیا۔یہ دیکھ کر اس رئیس کو جو ان کے باپ کا دوست تھا سخت صدمہ پہنچا مگر چونکہ وہ مکہ کے رؤسا پر اپنا غصہ نہیں نکال سکتا تھا اس لئے جس طرح غصہ میں انسان بعض دفعہ اپنے بھائی یا کسی اور رشتہ دار کو کوسنے لگ جاتا ہے وہ بھی حضرت عثمان کو ملامت کرنے لگا اور کہنے لگا میں نے نہیں کہا تھا کہ میری حفاظت سے باہر نہ نکلنا۔اگر آج تم میری حفاظت میں ہوتے تو کیوں کوئی شخص تمہاری آنکھ پر مگا مار کر اسے پھوڑ دیتا۔حضرت عثمان نے جواب دیا تم تو میری اس ایک آنکھ کے نکلنے پر افسوس کر رہے ہو اور میری تو دوسری آنکھ بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں اس تکلیف کا انتظار کر رہی ہے 6 غرض وہ تکلیف جسے دیکھ کر ایک دشمن کا فر کو بھی رحم آ گیا حضرت عثمان نے اسے اپنے لئے عزت افزائی کا مقام سمجھا۔یہی عثمان بعد میں بدریا احد کی جنگ میں شہید ہو گئے۔رسول کریم ﷺ کو ان سے اتنی محبت تھی کہ آپ انہیں اپنے بیٹوں کی طرح سمجھتے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ جب انہیں دفتا ر ہے تھے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور آپ فرماتے جاتے تھے عثمان پر اللہ تعالیٰ رحم کرے کہ اس نے دنیا میں کوئی سکھ نہیں دیکھا۔اور جب رسول کریم ﷺ کا صاحبزادہ ابراہیم فوت ہو گیا تو حدیثوں میں آتا ہے آپ نے اس کی وفات پر اسے مخاطب ہو کر کہا جا! اپنے بھائی عثمان بن مظعون کے پاس 1 تو وہ ایک لڑکا تھا ویسی ہی عمر کا جس عمر کے کئی لڑکے تم میں بیٹھے ہیں مگر جب اس نے خدا کے نور کو دیکھ لیا اور اس عالم کی بجائے ایک دوسرے عالم کو پالیا تو اس عالم کے مقابلہ میں یہ دنیا اس کی نگاہ میں بے حقیقت ہو گئی۔اور جس وقت دنیا یہ سمجھ رہی تھی کہ وہ جہنم میں ہے اُس وقت اسے یہ نظر آ رہا تھا کہ میں جنت میں ہوں۔تو فرمایا الحمد لله رَبِّ الْعَلَمِينَ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں دکھ ہیں مگر یہ اُسی وقت تک محسوس ہوتے ہیں جب تک انسان کی نگاہ اس دنیا پر ہو۔لیکن جب اس کے علاوہ بھی اور عالم ہیں اور ہمارا خدا وہ خدا ہے جس کا قبضہ اسی عالم پر نہیں بلکہ دوسرے عالموں پر بھی ہے تو