زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 70

زریں ہدایات (برائے طلباء) 70 جلد چهارم سنوسنو! اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے۔یہ وہ تعلیم تھی جو مسلمانوں کو روزانہ دی جاتی تھی اس لئے جو نہی انہوں نے یہ مصرع پڑھا حضرت عثمان بن مظعون کہنے لگے ٹھیک کہا ٹھیک کہا۔اب گوان کا یہ کہنا لبید کی تصدیق تھی مگر عرب کے ایک مشہور ترین شاعر کو ایک 17 ، 18 سالہ نوجوان کا یہ کہنا تعریف نہیں بلکہ ایک رنگ کی مذمت تھی۔اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے غالب اور ذوق اپنا کلام سنائیں تو ایک بچہ اٹھ کر کہے کہ خوب کہا۔ایسے موقع پر کسی بچے کا ایک بڑے شاعر کے کسی شعر کی تعریف کرنا مدح نہیں بلکہ مذمت سمجھی جاتی ہے۔چنانچہ جب حضرت عثمان بن مظعون نے کہا ٹھیک کہا ٹھیک کہا۔تو لبید یہ سن کر سخت برافروختہ ہوا اور اس نے کہا اے مکہ والو! پہلے تو تم بہت مؤدب ہوا کرتے تھے مگر اب تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم میں سے ایک لڑکا اٹھتا ہے اور کہتا ہے ٹھیک کہا ٹھیک کہا۔کیا میں اپنے کلام کی تصدیق کے لئے ایک لڑکے کا محتاج ہوں ؟ یہ سن کر بعض لوگ جوش میں بھر گئے اور انہوں نے چاہا کہ آپ کو سزا دیں مگر وہ رئیس جس نے انہیں پناہ میں کچھ عرصہ رکھا تھا پاس ہی بیٹھا ہوا تھا۔وہ کہنے لگا یہ بے وقوف نوجوان ہے جانے دو اور اس کی طرف توجہ نہ کرو۔اور انہیں منع کیا اور کہا کہ اگر اب کوئی شعر پڑھا جائے تو بالکل نہ بولنا۔اس کے بعد لبید نے اسی شعر کا یہ دوسرا مصرع پڑھا کہ وَكُلُّ نَعِيمِ لَا مَــــــالَةَ زَائِــلُ کہ ہر نعمت جو انسان کو ملے گی آخر ختم ہو جائے گی۔جب اس نے یہ مصرع پڑھا تو حضرت عثمان پھر بول اٹھے اور کہنے لگے یہ بالکل غلط اور جھوٹ ہے۔جنت کی نعمتیں قائم رہنے والی ہیں۔اب تم سمجھ سکتے ہو کہ جس شخص کی تصدیق پر شاعر کو غصہ آ رہا تھا اس کی تردید پرا سے کس قدر غصہ آیا ہو گا۔چنانچہ لبید نے سخت ناراض ہو کر کہا میرے لئے یہ بات بالکل نا قابل برداشت ہے اور اب میں مکہ میں کبھی نہیں آؤں گا جہاں کسی شاعر کی عزت بھی محفوظ نہیں۔ان لوگوں کی غذا چونکہ زبان دانی ہی تھی اس لئے جب انہوں نے دیکھا که لبید ناراض ہو گیا ہے تو ایک شخص جوش میں اٹھا اور اس نے گھونسہ تان کر ان کی ایک