زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 69
زریں ہدایات (برائے طلباء) 69 جلد چهارم میری پناہ میں ہے۔چنانچہ وہ آزادی سے پھرتے رہے۔ایک دن اسی طرح مکہ میں پھر رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا حضرت بلال اور بعض دوسرے صحابہ جو غلام تھے انہیں لوگ بری طرح مار پیٹ رہے ہیں۔گرم گرم ریت پر انہیں گھسیٹا جاتا ہے اور بڑے بڑے پتھر ان کے سینہ پر رکھے جاتے ہیں۔حضرت بلال چونکہ حبشی تھے اور انہیں اور کچھ نہیں آتا تھا اس لئے جوں جوں انہیں گھسیٹتے اور مارتے وہ یہی کہتے کہ احد، احد۔جب حضرت عثمان بن مظعون نے دیکھا کہ صحابہ لہولہان ہو رہے اور کفار کے کوڑے کھا رہے ہیں تو ان کے دل کو سخت صدمہ پہنچا اور وہ اس رئیس کے پاس گئے اور کہا چا! میں آج تک تمہاری حفاظت اور پناہ میں تھا مگر آج میں نے مسلمانوں کی ایسی دل ہلا دینے والی حالت دیکھی ہے کہ اس کے بعد میری غیرت یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ میرے دوسرے بھائی تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں تکالیف برداشت کریں اور میں آرام سے پھرتا رہوں۔اس لئے آج سے میں آپ کی حفاظت سے دست بردار ہوتا ہوں۔وہ کہنے لگا اگر میری حفاظت سے نکلے تو تمہارا وہی حال ہو گا جو دوسرے مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔کہنے لگے کوئی پرواہ نہیں۔اس نے کہا پھر سوچ لو، ایسا نہ ہو کہ بعد میں تمہیں کوئی تکلیف پہنچے۔وہ کہنے لگے کہ میں کچھ سوچنا نہیں چاہتا میں اب یہ فیصلہ کر چکا ہوں کہ آپ کی حفاظت سے نکل جاؤں۔آخر جب اس نے اس قدر اصرار دیکھا تو وہ خانہ کعبہ میں گیا اور اس نے اعلان کر دیا کہ اب عثمان میری حفاظت میں نہیں رہا۔لیکن چونکہ وہ غلام نہیں تھے بلکہ آزاد تھے اور ایک مشہور رئیس کے بیٹے تھے اس لئے لوگوں نے انہیں کوئی تکلیف نہ دی۔ایک دن عرب کے مشہور شاعر لبید جو بعد میں مسلمان ہو گئے تھے اور عرب کے مشہور ترین شعراء میں سے تھے کسی میلہ کے موقع پر مکہ میں آئے اور عرب کے بڑے بڑے رؤسا ان کا کلام سننے کے لئے جمع ہوئے۔لبید اپنا کلام سنا رہے اور عرب کے رؤسا وجد میں آ کر جھوم رہے تھے کہ شعر سناتے سناتے انہوں نے یہ مصرع پڑھا الا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ