زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 68
زریں ہدایات (برائے طلباء) 68 جلد چهارم نہایت ہی پیارے تھے۔دراصل رسول کریم ﷺ پر ابتدائی زمانہ میں ایمان لانے والے بالعموم نوجوان ہی تھے۔سب سے بڑی عمر کے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے مگر ان کی عمر بھی اُس وقت 37 سال تھی۔اور باقی لوگ جو آپ پر ایمان لائے وہ 11 سال سے 37 سال تک کی عمر کے تھے۔اور جو بڑے بڑے صحابہ ہیں ان میں سے بالعموم وہ ہیں جو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مستقلی کرتے ہوئے 15 سے 21 سال کی عمر کے تھے۔الله ان ہی میں سے ایک حضرت عثمان بن مظعون بھی تھے جن کی عمر 17 ، 18 سال کی تھی جب وہ رسول کریم ﷺ پر ایمان لائے۔آپ ایک بڑے مالدار اور رئیس شخص کے بیٹے تھے جب ایمان لائے تو خاندان نے ان کا بائیکاٹ کر دیا۔انہیں گھر سے نکال دیا اور کئی دکھوں میں انہیں اس قدر مبتلا کیا کہ مکہ میں رہنا ان کے لئے مشکل ہو گیا اور وہ ہجرت کر کے حبشہ گئے۔کچھ عرصہ جب انہیں اور ان کے بعض دوسرے ساتھیوں کو وہاں رہتے گزر گیا تو کفار نے ایک دفعہ یہ مشہور کر دیا کہ مکہ میں امن ہو گیا ہے۔جس سے ان کی غرض یہ تھی کہ جو لوگ مکہ سے ہجرت کر کے جاچکے ہیں وہ کسی طرح واپس آ جائیں اور ہم انہیں پھر تکالیف پہنچائیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور بعض صحابہ یہ خبر سن کر واپس آگئے۔انہی میں حضرت عثمان بن مظعونؓ بھی تھے۔جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ ان سے دھوکا کیا گیا ہے اور مکہ میں کوئی امن نہیں ہوا۔اس پر بعض صحابہ پھر واپس چلے گئے۔حضرت عثمان بن مظعون کی بھی یہی نیت تھی کہ واپس چلے جائیں مگر انہیں مکہ کا ایک رئیس مل گیا جو ان کے باپ کا بہت گہرا دوست تھا۔وہ انہیں دیکھ کر کہنے لگا عثمان ! تم کہاں؟ وہ کہنے لگے میں نے خبر سنی تھی کہ مکہ میں امن ہو گیا ہے اس لئے واپس آ گیا مگر یہاں آ کر معلوم ہوا کہ یہ خبر بالکل جھوٹ ہے اس لئے اب ارادہ ہے کہ پھر حبشہ واپس چلا جاؤں۔وہ رئیس کہنے لگا بھلا وطن سے اچھا مقام بھی کوئی اور ہو سکتا ہے تم یہیں رہو، تمہاری حفاظت کا میں ذمہ دار ہوں اور تمہارے متعلق میں یہ اعلان کر دیتا ہوں کہ تم میری حفاظت میں ہو۔چنانچہ وہ اپنی حفاظت میں انہیں مکہ لائے اور اعلان کر دیا کہ اب عثمان آئندہ سے