زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 43
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 43 جلد چهارم کے والدین پر پڑا اور وہ احمدی ہو گئے۔نماز کی پابندی بھی نہایت ضروری چیز ہے۔ایک نماز کے ضائع ہو جانے سے ساری عمر ضائع ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔جب تک تمہاری یہ حالت نہ ہو کہ تم محسوس کرنے لگ جاؤ ایک نماز کا بھی چھٹنا موت سے بدتر ہے تب تک تم نماز کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے۔پس نماز کسی صورت میں نہ چھوڑنی چاہئے۔تمہیں تماشوں میں بھی شامل نہ ہونا چاہئے۔ممکن ہے یہاں تو ان چیزوں کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے تم بچے رہتے ہو لیکن باہر جا کر تم سے ضبط نہ ہو سکے۔مگر یا درکھو کہ ان کا دیکھنا قطعاً ممنوع ہے۔ہم نے موجودہ حالات میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان کو نہیں دیکھنا۔تمہیں اس کی پوری طرح پابندی کرنی چاہئے۔پھر ہم نے یہ بھی طے کیا ہے کہ تین سال تک ایک ہی کھانا کھائیں گے۔تمہیں یہاں تو ایک ہی کھانا ملتا رہا ہے۔گھر میں جا کر ان رخصتوں میں لطف اٹھانے کا خیال ہو گا۔اس کے متعلق یہ تو اجازت ہے کہ اچھا کھانا کھاؤ لیکن دو کھانوں کی ایک وقت میں اجازت نہیں ہے۔تم اپنے اچھے نمونہ اور عقل سے تبلیغ کر سکتے ہو۔جو باتیں یہاں تمہارے کانوں میں پڑتی رہی ہیں ان سے ہی کام لے سکتے ہو۔حدیث میں آتا ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی کے ذریعہ ایک آدمی بھی ہدایت پا جائے تو اس وادی سے بہتر ہے جو گھوڑے اور اونٹوں سے بھری ہوئی ہو اور وہ کسی کو مل جائے۔چونکہ بعض اوقات نوجوان کے ہدایت پا جانے سے اس کے والدین ہدایت پا جاتے ہیں اس لئے اگر تم نو جوانوں اور بچوں میں تبلیغ کرو، ان پر احمدیت کی سچائی ثابت کر دو اور ان کو اسلام کا خادم بنا سکو تو اس سے بڑوں کی بھی اصلاح ہو جائے گی۔دنیوی کاموں میں بھی مومن کو آگے رہنا چاہئے۔تم یہ بھی کوشش کرو کہ یو نیورسٹی کے امتحان میں اعلیٰ نمبروں پر کامیاب ہو۔اب تک ایسے لڑکے نہیں نکل رہے جو نمونہ ہوں۔“ (الفضل 3 اگست 1935 ء )