زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 38
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 38 جلد چهارم عیسائیت کا قلعہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ پاش پاش ہونا ہے مگر وہ ابھی تک عام لوگوں کو نظر نہیں آتا۔وہ تو عام لوگوں کو اُس وقت نظر آئے گا جب آخری جنگ ہوگی۔ہم تو اس جنگ کی کڑیاں ہیں۔نہ مجھ سے آخری جنگ ہوئی اور نہ حضرت خلیفہ مسیح الاول نے کی اور نہ معلوم اور کتنے ہونے والے ہیں جو اس جنگ میں اپنا اپنا حصہ ادا کریں گے۔ان سب کی مجموعی کوشش آخری جنگ ہوگی نہ کہ کوئی ایک مباحثہ آخری جنگ کہلا سکتا ہے۔یہ دراصل انتہا درجہ کی خود پسندی، کبر اور غرور ہے۔ہر مبلغ کو اس سے بچنا چاہئے اور اپنے دل کے کسی کو نہ میں اسے داخل نہیں ہونے دینا چاہئے۔کیونکہ اس کی وجہ سے برکت اٹھ جاتی ہے اور انسان دین کی خدمت نہیں کر سکتا۔مبلغ اگر محض لسان ہی ہوتا ہے تو پھر عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری بھی مبلغ ہوں گے اور جس طرح وہ محض باتیں بنانے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے اسی طرح ایسا مبلغ بھی کچھ نہ کر سکے گا۔پس میں اسی صورت میں خوش ہو سکتا ہوں کہ دار الاقامہ میں رہنے سے عجز اور انکسار پیدا ہو۔اس طرح کوئی شخص کمزور نہیں ہوگا۔بلکہ خدا تعالیٰ اس کی خود مدد کرے گا۔اور اگر کسی موقع پر ظاہری شکست بھی ہو تو اس میں بھی حقیقی کامیابی ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دہلی میں مباحثہ کیا تو عوام سمجھتے تھے کہ آپ کو شکست ہوئی کیونکہ آپ کا مد مقابل جب بولتا تو خوب گالیاں دیتا اور آپ نرمی سے جواب دیتے۔مگر وہ لوگ جن کے دلوں میں ہدایت پانے کی تڑپ تھی ان کے نزدیک اصل میں وہی کامیاب ہوا جو کمزور نظر آتا تھا۔پس ہمار ا سا راز در انابت الی اللہ پر ہونا چاہئے۔اور میں یہی نصیحت اس وقت مبلغ بننے والے طلباء کو کرتا ہوں۔کئی آدمیوں کے ذریعہ چالیس چالیس اور پچاس پچاس اصحاب احمدیت میں داخل ہو جاتے ہیں۔مگر کئی مبلغ ایسے ہیں کہ ان کے ذریعہ کوئی بھی داخل نہیں ہوتا۔اس کی وجہ اندرونی صفائی کی کمی ہے۔مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روایت یاد ہے کوئی شخص قرآن پڑھ رہا تھا اسے کسی نے کہا زبان کی صفائی کی بجائے دل کی صفائی پر زور دو۔تو زبان کی صفائی پر ہی نہیں بلکہ دل کی صفائی پر زور دینا چاہئے۔اس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ ظاہری باتوں کو بالکل چھوڑ دو۔بلکہ یہ ہے کہ جو حقیقی طور پر باطنی باتوں پر زور دیتا ہے وہ ظاہری پر بھی